پاسپورٹ دفاتر میں نقد فیس ختم! یکم جولائی سے ملک بھر میں نیا ڈیجیٹل نظام نافذ

A close-up of the official Pakistani green e-passport along with a digital QR code for fee payment
حکومتِ پاکستان نے شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول میں بڑی سہولت دینے اور دفاتر کے باہر موجود ایجنٹ مافیا کی کمر توڑنے کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کے زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ یکم جولائی سے ملک بھر کے تمام پاسپورٹ دفاتر میں نقد فیس وصولی کا روایتی نظام مستقل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اب سے فیسوں کی ادائیگی صرف کیو آر کوڈ (QR Code) اور ڈیجیٹل ذرائع سے ممکن ہوگی۔

گھر بیٹھے پاسپورٹ اور نادرا مراکز سے حصول: نئی سہولیات

اس نئی اصلاحاتی پالیسی کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس جلد ہی ایک جدید "پاسپورٹ موبائل ایپ" متعارف کروا رہا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کروا سکیں گے اور کورئیر سروسز (TCS اور DHL) کے ذریعے پاسپورٹ براہِ راست ان کی دہلیز پر پہنچایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، نادرا (NADRA) مراکز میں بھی پاسپورٹ خدمات کی فراہمی کے لیے سافٹ ویئر آخری مراحل میں ہے، جس کے بعد عوام اپنے قریبی نادرا سینٹر سے بھی پاسپورٹ بنوا سکیں گے۔

حکام کے مطابق، آئندہ سے صرف جدید "ای پاسپورٹس" (e-Passports) جاری کیے جائیں گے، تاہم موجودہ تمام مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ اپنی مقررہ تاریخِ تنسیخ تک بین الاقوامی سفر کے لیے مکمل طور پر کارآمد رہیں گے۔ ایجنٹ مافیا کے خاتمے کے لیے ایف آئی اے (FIA) کے ساتھ مل کر کریک ڈاؤن کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: کیش لیس اکانومی اور کرپشن کا خاتمہ

اس پورے اقدام کا گہرا تجزیہ یہ ہے کہ نقد رقم کی منسوخی سے پاسپورٹ دفاتر میں ہونے والی روزمرہ کی بدعنوانی اور رشوت ستانی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ جب سارا نظام کیش لیس (Cashless) اور آن لائن ہو جاتا ہے، تو ایجنٹوں کے لیے معصوم شہریوں کو لوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نادرا مراکز کو اس نیٹ ورک میں شامل کرنا ایک بہترین سٹریٹیجک فیصلہ ہے، کیونکہ اس سے پاسپورٹ دفاتر پر موجود اضافی بوجھ ختم ہوگا اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بڑے شہروں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔

پاکستان میں پاسپورٹ سسٹم کی ہسٹری (Evergreen Context):

پاکستانی پاسپورٹ کی تاریخ اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ ملک اب بتدریج جدید دنیا کے ہم پلہ ہو رہا ہے:

  • دستی پاسپورٹ کا دور: ماضی میں پاکستان میں ہاتھ سے لکھے جانے والے پاسپورٹ چلتے تھے، جن میں جعل سازی انتہائی آسان تھی اور شہریوں کو ہفتوں لائنوں میں لگنا پڑتا تھا۔
  • مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (MRP): سال 2004 میں پاکستان نے پہلی بار مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ متعارف کروائے، جس سے سیکیورٹی کے معیار میں بہتری آئی۔
  • ای پاسپورٹ (e-Passport) کا آغاز: حال ہی میں پاکستان نے مائیکرو چِپ سے لیس بائیومیٹرک 'ای پاسپورٹ' کا آغاز کیا، جو عالمی سطح پر سب سے محفوظ مانا جاتا ہے اور اب اسے تمام شہریوں کے لیے لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن کا یہ سفر درست سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت موبائل ایپ اور نادرا کے سرورز کو مضبوط بنائے تاکہ آن لائن سسٹم پر لوڈ بڑھنے سے شہریوں کو کسی تکنیکی خرابی یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


⬇️ Click to Read this National Story in English

Digital Revolution: Pakistan to End Cash Fee System for Passports from July 1


ISLAMABAD: The Directorate General of Immigration and Passports has announced a major policy shift, declaring that the cash fee collection system at all passport offices nationwide will be completely abolished starting July 1. Under the chairmanship of DG Passport Muhammad Ali Randhawa, the department will shift entirely to QR-code and digital payment methods to eliminate agent mafias and corruption.

Doorstep Delivery and NADRA Integration

To facilitate citizens, a dedicated "Passport Mobile App" is being launched, allowing both domestic and overseas Pakistanis to apply online and receive their passports at their doorsteps via TCS and DHL. Furthermore, passport services are being integrated with NADRA centers across the country. Moving forward, only e-Passports featuring advanced biometric chips will be issued, while existing machine-readable passports will remain valid until their expiration dates.

Comments