عوام کے محافظوں پر بزدلانہ حملہ
ذرائع کے مطابق یہ سیکیورٹی اہلکار علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور عام عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی دفتری اور قانونی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس گروپ نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہو۔ شرپسند کمیٹی کے ارکان اس سے قبل بھی سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچانے سمیت متعدد سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید اور زخمی کر چکے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلسل حملوں نے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوامی حقوق یا اشتعال انگیز ایجنڈا؟
سیاسی و دفاعی ماہرین نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نام نہاد ایکشن کمیٹی کی طرف سے کی جانے والی ان مسلسل پرتشدد کارروائیوں سے اب یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹولہ کسی عوامی حقوق کی جدوجہد کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً ایک اشتعال انگیز اور ریاست مخالف ایجنڈے پر کاربند ہے جس کا مقصد خطے کا امن تباہ کرنا ہے۔
حکومت اور مقامی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شرپسند عنصر کو قانون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حملے میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

Comments
Post a Comment