روح پرور تقریب! خانہ کعبہ کو آبِ زمزم اور عرقِ گلاب سے غسل دے دیا گیا

The golden door of the Holy Kaaba open during the annual washing ritual in Masjid al-Haram
مکہ مکرمہ کی مقدس دھرتی پر مسجد الحرام کے اندر خانہ کعبہ کی سالانہ غسلِ کعبہ کی انتہائی روح پرور اور بابرکت تقریب پورے مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی گئی ہے۔ اس مبارک اور ایمان افروز موقع پر کعبۃ اللہ کے اندرونی حصے کو دھونے کے لیے ہزاروں لیٹر خالص عرقِ گلاب اور آبِ زمزم کا استعمال کیا گیا۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں نے اس خوبصورت اور پاکیزہ منظر کو نہایت عقیدت و محبت سے دیکھا، جو اسلامی دنیا کی سب سے محترم روایات میں سے ایک ہے۔

اعلیٰ شخصیات کی شرکت اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات

اس بابرکت تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے شرکت کی۔ وہ نمازِ فجر کے بعد خانہ کعبہ کے سنہری دروازے سے اندر داخل ہوئے اور غسلِ کعبہ کی رسمی کارروائی کا آغاز کیا۔ ان کے ہمراہ مختلف اسلامی ممالک کے معزز سفارت کاروں، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نمائندوں، حرمین شریفین کے اعلیٰ حکام، ممتاز علما اور مشائخ عظام نے بھی کعبۃ اللہ کو غسل دینے کی سعادت حاصل کی۔

تقریب کو انتہائی پرامن اور منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے مسجد الحرام اور مطاف میں سکیورٹی کے خصوصی اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ غسل کے عمل کے دوران زائرین کی ایک محدود تعداد کو مطاف میں طواف کی اجازت دی گئی تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، غلافِ کعبہ (کسوہ شریف) کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خانہ کعبہ کے دروازے پر نصب پردے کو عارضی طور پر اوپر اٹھا دیا گیا تھا تاکہ غسل کی کارروائی بلا تعطل انجام دی جا سکے۔

تبصرہ و تجزیہ: حرمین شریفین کی خدمت اور اسلامی اتحاد کا مرکز

غسلِ کعبہ محض ایک سالانہ رسم نہیں، بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور گہری مذہبی وابستگی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ مختلف ممالک کے سفیروں اور او آئی سی کے نمائندوں کی اس میں باقاعدہ شرکت یہ پیغام دیتی ہے کہ کعبۃ اللہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا واحد مرکز و محور ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ہر سال اس تقریب کو جس شاندار اور جدید ترین انتظامات کے ساتھ منظم کیا جاتا ہے، وہ حرمین شریفین اور مہمانانِ خدا کے لیے ان کی بے لوث اور قابلِ تحسین خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

غسلِ کعبہ کی تاریخی روایت اور پسِ منظر:

خانہ کعبہ کو غسل دینے کی یہ خوبصورت روایت صدیوں پرانی ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تاریخی پسِ منظر ہے:

  • سنتِ نبوی ﷺ: غسلِ کعبہ کی اصل تاریخ فتح مکہ سے جڑی ہے، جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور اسے آبِ زمزم سے غسل دینے کا حکم دیا۔ یہ مبارک عمل تب سے سنتِ نبوی کے طور پر جاری ہے۔
  • عرقِ گلاب کی تیاری: غسل کے لیے استعمال ہونے والا عرقِ گلاب عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ طائف کے مشہور اور قیمتی ترین گلابوں سے خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے، جسے آبِ زمزم میں ملا کر کعبہ کی اندرونی دیواروں اور فرش پر لگایا جاتا ہے۔
  • سال میں دو بار کی تاریخ: ماضی میں خانہ کعبہ کو سال میں دو مرتبہ غسل دیا جاتا تھا (ایک بار شعبان اور دوسری بار محرم الحرام میں)، تاہم زائرین کے بڑھتے ہوئے رش اور کسوہ شریف کی مینیجمنٹ کے باعث اب یہ سالانہ بنیادوں پر انتہائی منظم انداز میں انجام پاتا ہے۔

غسلِ کعبہ کی یہ روح پرور تقریب دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی کعبۃ اللہ کی زیارت اور اس مقدس مقام پر حاضری کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔


⬇️ Click to Read this Holy Event Story in English

Holy Ritual: Holy Kaaba Washed with Zamzam Water and Pure Rosewater in Makkah


MAKKAH: The annual and deeply spiritual ritual of washing the Holy Kaaba (Ghusl-e-Kaaba) was performed inside the Grand Mosque, Masjid al-Haram, with utmost religious devotion. Thousands of liters of pure Taif rosewater mixed with blessed Zamzam water were used to wash the interior walls and floors of the holiest site in Islam.

Dignitaries and Islamic Diplomats Partake in the Blessed Ceremony

On behalf of Custodian of the Two Holy Mosques King Salman, Governor of Makkah Prince Saud bin Mishal led the prestigious ceremony after Fajr prayers. The event was attended by prominent Islamic scholars, OIC representatives, and Muslim diplomats from various nations under strict security protocols. To ensure seamless access and protect the holy Kiswah, the outer curtain of the Kaaba’s golden door was temporarily raised during the cleaning process.

Comments