اعلیٰ شخصیات کی شرکت اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات
اس بابرکت تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے شرکت کی۔ وہ نمازِ فجر کے بعد خانہ کعبہ کے سنہری دروازے سے اندر داخل ہوئے اور غسلِ کعبہ کی رسمی کارروائی کا آغاز کیا۔ ان کے ہمراہ مختلف اسلامی ممالک کے معزز سفارت کاروں، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نمائندوں، حرمین شریفین کے اعلیٰ حکام، ممتاز علما اور مشائخ عظام نے بھی کعبۃ اللہ کو غسل دینے کی سعادت حاصل کی۔
نيابةً عن #خادم_الحرمين_الشريفين..
— قناة القرآن الكريم (@qurantvsa) June 30, 2026
يتشرّف نائب أمير منطقة مكة المكرمة، صاحب السمو الملكي الأمير سعود بن مشعل بن عبدالعزيز، بغسل #الكعبة_المشرفة pic.twitter.com/A1LkaKFBDk
تقریب کو انتہائی پرامن اور منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے مسجد الحرام اور مطاف میں سکیورٹی کے خصوصی اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ غسل کے عمل کے دوران زائرین کی ایک محدود تعداد کو مطاف میں طواف کی اجازت دی گئی تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، غلافِ کعبہ (کسوہ شریف) کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خانہ کعبہ کے دروازے پر نصب پردے کو عارضی طور پر اوپر اٹھا دیا گیا تھا تاکہ غسل کی کارروائی بلا تعطل انجام دی جا سکے۔
تبصرہ و تجزیہ: حرمین شریفین کی خدمت اور اسلامی اتحاد کا مرکز
غسلِ کعبہ محض ایک سالانہ رسم نہیں، بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور گہری مذہبی وابستگی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ مختلف ممالک کے سفیروں اور او آئی سی کے نمائندوں کی اس میں باقاعدہ شرکت یہ پیغام دیتی ہے کہ کعبۃ اللہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا واحد مرکز و محور ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ہر سال اس تقریب کو جس شاندار اور جدید ترین انتظامات کے ساتھ منظم کیا جاتا ہے، وہ حرمین شریفین اور مہمانانِ خدا کے لیے ان کی بے لوث اور قابلِ تحسین خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غسلِ کعبہ کی تاریخی روایت اور پسِ منظر:
خانہ کعبہ کو غسل دینے کی یہ خوبصورت روایت صدیوں پرانی ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تاریخی پسِ منظر ہے:
- سنتِ نبوی ﷺ: غسلِ کعبہ کی اصل تاریخ فتح مکہ سے جڑی ہے، جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور اسے آبِ زمزم سے غسل دینے کا حکم دیا۔ یہ مبارک عمل تب سے سنتِ نبوی کے طور پر جاری ہے۔
- عرقِ گلاب کی تیاری: غسل کے لیے استعمال ہونے والا عرقِ گلاب عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ طائف کے مشہور اور قیمتی ترین گلابوں سے خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے، جسے آبِ زمزم میں ملا کر کعبہ کی اندرونی دیواروں اور فرش پر لگایا جاتا ہے۔
- سال میں دو بار کی تاریخ: ماضی میں خانہ کعبہ کو سال میں دو مرتبہ غسل دیا جاتا تھا (ایک بار شعبان اور دوسری بار محرم الحرام میں)، تاہم زائرین کے بڑھتے ہوئے رش اور کسوہ شریف کی مینیجمنٹ کے باعث اب یہ سالانہ بنیادوں پر انتہائی منظم انداز میں انجام پاتا ہے۔
غسلِ کعبہ کی یہ روح پرور تقریب دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی کعبۃ اللہ کی زیارت اور اس مقدس مقام پر حاضری کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment