عالمی لیبر ہسٹری میں بڑی پیش رفت؛ کینیڈا میں والمارٹ ملازمین نے پہلی بار تاریخی یونین معاہدہ جیت لیا
مسیساگا ڈسٹری بیوشن سینٹر میں دو سالہ جدوجہد رنگ لے آئی
کینیڈا کے شہر مسیساگا (اونٹاریو) میں واقع والمارٹ کے ایک بڑے ڈسٹری بیوشن ویئر ہاؤس کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے، کام کے حالات میں بہتری اور دیگر مراعات پر مشتمل ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس گودام کے ملازمین نے پہلی بار 2024 میں یونین بنانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے اور پورے دو سال بعد اب جا کر اس معاہدے پر اتفاق ہو سکا ہے۔
کینیڈا کی سب سے بڑی پرائیویٹ سیکٹر یونین "یونیفور" (Unifor) کی صدر لانا پین کا کہنا ہے کہ ان ملازمین نے والمارٹ جیسی دنیا کی بڑی کارپوریشن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے غیر معمولی ہمت دکھائی۔ یہ کامیابی صرف والمارٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس سے پورے ویئر ہاؤس اور سپلائی چین کے شعبے میں ملازمین کو اپنے حقوق کے لیے منظم ہونے کا ایک نیا حوصلہ ملے گا۔
ایمیزون (Amazon) کے خلاف بھی یونین کا محاذ گرم
کینیڈا میں والمارٹ کی اس تاریخی کامیابی کے بعد اب اگلا ہدف دنیا کی دوسری بڑی کمپنی ایمیزون ہے۔ برٹش کولمبیا میں ایمیزون کی ایک فیسلیٹی پر یونین سازی کا کام تیزی سے جاری ہے جہاں حال ہی میں لیبر بورڈ نے ایمیزون کو مزدوروں کے حقوق غصب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے:
- تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم: برٹش کولمبیا کے لیبر بورڈ نے پایا کہ ایمیزون نے یونین بنانے کی کوشش کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ جان بوجھ کر روکا، جس پر کمپنی کو اب 10 لاکھ ڈالر سے زائد کے بقایاجات ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔
- ملازمین کی معاشی صورتحال: ماہرِ معیشت جم اسٹینفورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ والمارٹ اور ایمیزون جیسی کمپنیاں کھربوں ڈالرز کماتی ہیں جبکہ ان کے اپنے ہی کئی ملازمین مہنگائی کے باعث فوڈ بینکوں سے راشن لینے پر مجبور ہیں۔
- مستقبل کی حکمتِ عملی: لیبر ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں والمارٹ اور ایمیزون جیسی بڑی کمپنیوں کے خلاف مزدوروں کی یہ کامیابی "داؤد اور جالوت" کی جنگ جیتنے کے مترادف ہے، جو مستقبل میں مزید کارپوریشنز تک پھیلے گی۔
کینیڈا میں والمارٹ کے ساتھ ہونے والا یہ پہلا معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ اگر مزدور متحد ہوں تو دنیا کی بڑی سے بڑی کارپوریشن کو بھی ان کے جائز حقوق دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment