پنجاب میں تیزاب گردی کے پے در پے واقعات؛ بہاولپور میں سوئی ہوئی خاتون پر حملہ، شیخوپورہ واقعے کا سخت نوٹس
شیخوپورہ میں ماں بیٹی پر تیزاب حملہ؛ حنا پرویز بٹ کا ایکشن
بہاولپور کے اس واقعے سے چند روز قبل شیخوپورہ کے علاقے تھانہ کوٹ عبدالمالک کی حدود میں بھی ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ملزم وقاص نے اپنی سابقہ اہلیہ اور 14 سالہ بیٹی پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں خاتون کا بازو اور جسم کے دیگر حصے بری طرح جھلس گئے تھے جبکہ کم سن بیٹی کا بازو بھی شدید متاثر ہوا تھا۔ چیئرپرسن پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ سے فوری رپورٹ طلب کی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم وقاص کو گرفتار کر لیا ہے۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات کے مطابق متاثرہ خاتون اور بچی کو ہر ممکن انصاف، قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت خواتین کے تحفظ کے لیے متحرک ہے اور خواتین پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دلائی جائے گی۔
ایسڈ کنٹرول بل 2025: ملزمان کو کڑی سزائیں ملیں گی
حنا پرویز بٹ نے نئے قوانین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تیزاب گردی کے مجرم قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ قانون کی اہم شقیں درج ذیل ہیں:
- سخت قید اور جرمانہ: ایسڈ کنٹرول بل 2025 کے تحت تیزاب حملے کے ملزمان کو کم از کم 14 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
- ناقابلِ ضمانت جرم: یہ جرم اب مکمل طور پر ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ قرار دیا جا چکا ہے، یعنی ملزم اب کسی قسم کے راضی نامے یا ضمانت کے پیچھے نہیں چھپ سکے گا۔
- خرید و فروخت پر سخت پابندی: تیزاب کی کھلی فروخت کو روکنے کے لیے اب لائسنس، شناختی کارڈ کی فراہمی اور خریدار کا مکمل ریکارڈ رکھنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب کا عزم ہے کہ "محفوظ پنجاب" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی مشن ہے، اور تیزاب گردی جیسے گھناؤنے جرائم کا جڑ سے خاتمہ کر کے دم لیا جائے گا۔

Comments
Post a Comment