خون آلود ماضی اور ماں کا حوصلہ: انسانی ٹچ
ایمن حسین کا ورلڈ کپ تک پہنچنے کا سفر بارود کے ڈھیر اور ذاتی سانحات سے گزر کر مکمل ہوا ہے۔ سال 2008 میں، جب ایمن صرف 12 سال کے تھے، ان کے والد (جو عراقی فوج میں سپاہی تھے) کو القاعدہ کے دہشت گردوں نے اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا جب وہ اپنے گھر کی تعمیر کے لیے سامان خریدنے نکلے تھے۔ چند سال بعد، ملک میں جاری بدامنی کے دوران ان کے بڑے بھائی کو اغوا کر لیا گیا، جو آج تک لاپتہ ہیں۔
ان ہولناک صدمات کے بعد ایمن حسین نے فٹبال چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ وہ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں، لیکن ان کی ماں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کو روکا اور کہا کہ وہ اپنے خواب کو پورا کرے۔ ماں کے اسی حوصلے نے آج 30 سالہ ایمن حسین کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ انہوں نے کوالیفائرز میں 12 شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو 1986 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کا ٹکٹ دلوایا۔ یہاں تک کہ ورلڈ کپ کے لیے امریکہ پہنچنے پر شکاگو ائیرپورٹ پر انہیں 7 گھنٹے حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کی گئی، مگر وہ ذہنی دباؤ کو پسِ پشت ڈال کر میدان میں اترے۔
تبصرہ و تجزیہ: جنگ اور فٹبال کا گہرا رشتہ
عراق جیسے جنگ زدہ ملک کے لیے فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ بکھرے ہوئے لوگوں کو متحد کرنے کا واحد ذریعہ رہا ہے۔ جب جب عراقی عوام پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے، ان کے کھلاڑیوں نے میدانِ جنگ نما اسٹیڈیمز میں جا کر امید کا چراغ جلایا۔ ایمن حسین کا یہ گول صرف ایک پوائنٹ نہیں تھا، بلکہ یہ ان لاکھوں عراقیوں کے زخموں پر مرہم تھا جنہوں نے برسوں بارود کی بو سونگھی ہے۔ عراقی کوچ گراہم آرنلڈ کا کہنا ہے کہ انجریز اور کلب فٹبال میں کم وقت ملنے کے باوجود ایمن نے جس توانائی کا مظاہرہ کیا، وہ ناقابلِ یقین ہے۔
عراقی فٹبال کا ناقابلِ یقین سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
عراق کی فٹبال ہسٹری معجزات اور جذبوں سے بھری پڑی ہے جو اس اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے:
- 2007 کا ایشیا کپ معجزہ: جب پورا عراق بدترین فرقہ وارانہ جنگ کی آگ میں جل رہا تھا، عراقی ٹیم نے تمام تر مشکلات کے باوجود فائنل میں سعودی عرب کو ہرا کر پہلی بار ایشین چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
- اردن میں تیاریاں: 2007 میں سیکیورٹی حالات اس قدر خراب تھے کہ عراقی ٹیم کے پاس ہوم گراؤنڈ نہیں تھا اور کھلاڑیوں نے پڑوسی ملک اردن میں جا کر ورلڈ کپ اور ایشیا کپ کی تیاریاں کی تھیں۔
- خوشی پر بھی خودکش حملہ: 2007 کے ایشیا کپ سیمی فائنل میں جنوبی کوریا کو شکست دینے کے بعد جب بغداد کی سڑکوں پر عوام جشن منا رہے تھے، تو ایک ہولناک خودکش حملے میں درجنوں فٹبال فینز شہید ہو گئے تھے، مگر عراقی فٹبال کا سفر نہیں رکا۔
گروپ آئی (Group I) میں فرانس اور سینیگال جیسی مضبوط ٹیموں کی موجودگی میں عراق کا سفر کٹھن ضرور ہے، لیکن ایمن حسین جیسا جاویداں عزم رکھنے والا کھلاڑی اگر ٹیم میں موجود ہو، تو معجزے کبھی بھی رونما ہو سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment