دو دیووں کی جنگ: آئرش لوک داستان کا انسانی ٹچ
صدیوں سے نسل در نسل چلی آنے والی آئرش کہانی کے مطابق، یہ راستہ کوئی قدرتی جگہ نہیں بلکہ آئرلینڈ کے ایک عظیم الجثہ دیو "فن میک کول" نے بنایا تھا۔ کہانی ہے کہ اس کا سکاٹ لینڈ کے ایک اور خوفناک دیو "بینان ڈونر" سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ اپنے دشمن تک پہنچنے اور اس سے لڑنے کے لیے فن میک کول نے ساحل کے بڑے بڑے پتھر سمندر میں پھینک کر یہ راستہ تیار کیا تھا۔
کہانی میں ایک بڑا ہی دلچسپ موڑ اس وقت آتا ہے جب فن میک کول اپنے دشمن کا دیو ہیکل جثہ دیکھ کر ڈر جاتا ہے اور بھاگ کر واپس آئرلینڈ آ جاتا ہے۔ وہاں اس کی ذہین بیوی "اوناگ" اسے ایک چھوٹے بچے کے کپڑے پہنا کر پندھوڑے میں لٹا دیتی ہے۔ جب سکاٹش دیو پیچھا کرتے ہوئے گھر پہنچتا ہے اور اس "بچے" کو دیکھتا ہے، تو وہ خوف سے کانپ اٹھتا ہے کہ "جس کا بچہ اتنا بڑا ہے، اس کا باپ کتنا ہولناک دیو ہوگا!" وہ اسی ڈر سے واپس سکاٹ لینڈ بھاگتا ہے اور جاتے جاتے اس راستے کو توڑ دیتا ہے، تاکہ فن اس تک نہ پہنچ سکے۔
تبصرہ و تجزیہ: لاوے کا ابال اور زمین کا تاریخی ریکارڈ
برٹش جیولوجیکل سروے کے ماہرِ ارضیات ڈاکٹر سائمن ٹیپسٹر کی جدید ترین تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ یہ پتھر کسی دیو نے نہیں، بلکہ آج سے تقریباً 6 کروڑ سال پہلے زمین کی گہرائی سے نکلنے والے ایک ہولناک اور عالمی سطح کے آتش فشاں دھماکے (Volcanic Event) نے بنائے تھے۔ جب گرم لاوا زمین کی دراڑوں سے باہر آیا اور اچانک ٹھنڈا ہو کر سکڑنے لگا، تو اس شدید دباؤ کی وجہ سے پتھروں میں ایسی دراڑیں پڑیں جنہوں نے قدرتی طور پر چھ کونوں والے ستونوں کی شکل اختیار کر لی۔
سائنسدانوں نے پہلی بار یہ دریافت کیا ہے کہ آئرلینڈ کا یہ ساحل اور سکاٹ لینڈ کے جزیروں پر موجود غاریں (Fingal's Cave) دراصل ایک ہی آتش فشاں کے لاوے سے بنے تھے۔ یعنی کہ لوک داستان میں سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے مابین جو تعلق دکھایا گیا تھا، سائنس نے زمین کی گہرائیوں کا ریکارڈ چیک کر کے اس جغرافیائی تعلق کو بالکل سچ ثابت کر دیا ہے، مگر ایک الگ انداز میں۔
ماضی کی ارضیاتی تاریخ اور سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
زمین پر موجود ایسے قدرتی شاہکار اور ان کی سائنسی حقیقت ہمیشہ کے لیے ایورگرین معلومات فراہم کرتی ہے:
- مطلوبہ وقت کی تصحیح: پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ یہ جگہ 1 کروڑ 35 لاکھ سال کے عرصے میں بنی، مگر نئی ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ یہ عالمی واقعہ صرف 55 لاکھ سال کے قلیل عرصے میں مکمل ہوا تھا۔
- گرین لینڈ تک پھیلاؤ: اس آتش فشاں کے اثرات اور اس کے لاوے کا ریکارڈ آئرلینڈ سے لے کر اسکاٹ لینڈ، فارو آئی لینڈز اور دور دراز ملک گرین لینڈ کی چٹانوں میں بھی پایا گیا ہے۔
- یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ: جائنٹس کاز وے کو یونیسکو (Unesco) نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے اور یہ برطانیہ کے عظیم ترین قدرتی عجائب میں شمار ہوتا ہے۔
اگرچہ یہاں آنے والے سیاح آج بھی سائنس کے بجائے دیووں کی اس رومانوی اور دلچسپ کہانی پر یقین کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، لیکن زمین کے سینے میں چھپے یہ ارضیاتی ریکارڈ ثابت کرتے ہیں کہ فطرت کا اپنا ایک الگ اور بے رحم جادو ہے جو کہانیوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

Comments
Post a Comment