"ہم نے مطالبات مانے، وہ شکریہ کے بجائے مزید 38 مطالبات لے آئے"
رانا ثناء اللہ نے کشمیر ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ لچک کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں انتہائی سستی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جہاں پاکستان میں بجلی 48 روپے یونٹ ہے وہاں آزاد کشمیر میں صرف 3 روپے یونٹ دی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ایکشن کمیٹی نے دانستہ طور پر الیکشن روکنے اور انتشار پھیلانے کے لیے 9 جون کو لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا۔
انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ حکومت نے کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پر تحریری معاہدہ بھی کیا، لیکن ان کا ایک غیر آئینی مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں۔ سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ کسی ایگزیکٹو فیصلے سے یہ سیٹیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق، ایکشن کمیٹی کے لوگ کسی سیاسی جماعت یا عدالتی نظام کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
کشمیر ایکشن کمیٹی کے اعتراضات اور بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا
معاون خصوصی نے مذاکرات کے دوران سامنے آنے والے چند انتہائی تشویشناک نکات پر سے بھی پردہ اٹھایا:
- الحاقِ پاکستان پر اعتراض: رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ حلف نامے سے یہ سطر نکالی جائے کہ "کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جائے گا"۔
- بھارتی سازش کا اشارہ: انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں فائرنگ اور لشکر کشی کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، یہ بھارتی میڈیا کے چینلز خود دکھا رہے ہیں کہ وہاں کیا کرنا چاہتے ہیں اور بھارت کا 'سندور ٹو آپریشن' کیا ہے۔
- آئین اور قانون کی بالادستی: قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں اور کشمیر کی آزادی کی بنیاد ہی الحاقِ پاکستان ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے اعادہ کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی سازش کو ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Comments
Post a Comment