الگورتھم کٹہرے میں! کیا سوشل میڈیا کا کوڈ انسانوں کو مفلوج کر رہا ہے؟

A conceptual digital artwork showing binary code mixed with social media icons inside a legal courtroom screen
بیس سال پہلے جب سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی نے دنیا میں قدم رکھا، تو اسے انسانوں کو جوڑنے کا ایک شاہکار مانا گیا۔ لیکن آج یہی ٹیکنالوجی (Meta، یوٹیوب، ٹک ٹاک، اور اسنیپ چیٹ) امریکہ کی عدالتوں میں ایک بھیانک الزام کا سامنا کر رہی ہے۔ سائنسدانوں اور ماہرینِ نفسیات کا دعویٰ ہے کہ ان ایپس کے پیچھے کام کرنے والے الگورتھم اور سورس کوڈ کو جان بوجھ کر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جو انسانی دماغ، خاص طور پر بچوں کے اعصابی نظام کو اپنا محتاج (Addict) بنا لیں۔ یہ مقدمات اب یہ طے کریں گے کہ مستقبل میں ٹیک کمپنیاں اپنی پروڈکٹس کیسے ڈیزائن کریں گی۔

دماغی لت اور الگورتھم کا انسانی اثر

امریکہ کے 1,000 سے زائد اسکول ڈسٹرکٹس نے ان ٹیک کمپنیوں کے خلاف جو بڑا مقدمہ دائر کیا ہے، اس کی بنیاد مکمل طور پر نیورو سائنس (Neuroscience) پر ہے۔ اسکولوں کا الزام ہے کہ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی لامتناہی اسکرولنگ (Infinite Scroll) اور نوٹیفیکیشن سسٹم انسانی دماغ میں 'ڈوپامین' (Dopamine) نامی کیمیکل کو غیر قدرتی طور پر متحرک کرتے ہیں۔ یہ وہی کیمیکل ہے جو کسی بھی بری لت کی وجہ بنتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے بچوں میں ذہنی تناؤ، ڈیپریشن اور نیند کی کمی کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ اگر ٹیک کمپنیاں یہ کیس ہار گئیں، تو انہیں اپنی ایپس کا بنیادی آرکیٹیکچر اور الگورتھم بالکل تبدیل کرنا پڑے گا۔

بچوں کا ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی ٹریننگ

اس کہانی کا دوسرا بڑا تکنیکی پہلو ڈیٹا پرائیویسی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ہے۔ امریکہ کی 29 ریاستیں میٹا (Meta) کے خلاف بچوں کے آن لائن پرائیویسی قانون (COPPA) کی خلاف ورزی پر مقدمہ لڑ رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک بڑا سچ یہ ہے کہ میٹا اپنے صارفین، بشمول 13 سال سے کم عمر بچوں کا خفیہ ڈیٹا اور بیہیویرل پیٹرنز (Behavioral Patterns) اکٹھا کرتا ہے۔ اس ڈیٹا کو نہ صرف ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ میٹا کے نئے اور جدید ترین AI ماڈلز کو ٹرین کرنے کے لیے بھی یہ ڈیٹا فیڈ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ریاستوں کا مطالبہ ہے کہ یہ پورا ڈیٹا سسٹم سے فوری ڈیلیٹ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی، آسٹریلیا کے ارب پتی ڈاکٹر اینڈریو فارسٹ کا فیس بک پر اسکام اشتہارات کا کیس بھی ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک رخ دکھاتا ہے۔ یہ کیس انٹرنیٹ کے سب سے پرانے حفاظتی قانون "سیکشن 230" کو چیلنج کر رہا ہے، جو کہ 1996 کا ایک ایسا قانون ہے جب دنیا نے موجودہ ماڈرن ویب سسٹمز کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ٹیکنالوجی اور قوانین کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے ان تکنیکی اور قانونی بنیادوں کو سمجھنا ضروری ہے:

  • انفینٹ اسکرولنگ (Infinite Scroll): یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس کے تحت اسکرین کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسے خاص طور پر انسانی توجہ (Attention Span) کو قید رکھنے کے لیے سائنس کی مدد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
  • سیکشن 230 (Section 230): 1996 میں بننے والا امریکی قانون جو انٹرنیٹ پلت فارمز کو صارفین کے پوسٹ کردہ مواد کی قانونی ذمہ داری سے استثنیٰ دیتا ہے۔ جدید دور میں اس قانون کو ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی ڈھال مانا جا رہا ہے۔
  • سائنس کی دنیا کا پہلا ہرجانہ (2026): اسی سال ایک امریکی عدالت نے ایک لڑکی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میٹا اور یوٹیوب کو 6 ملین ڈالرز ہرجانہ دینے کا حکم دیا، جس کی ذہنی صحت بچپن میں سوشل میڈیا الگورتھم کی لت کی وجہ سے تباہ ہوئی تھی۔

تبصرہ و تجزیہ: یہ مقدمات صرف کارپوریٹ لڑائی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کی ایک سائنسی جنگ ہیں۔ یہ فیصلے یہ طے کریں گے کہ کیا مستقبل کے الگورتھم انسانوں کو ذہنی غلام بنائیں گے یا پھر اب ٹیک انڈسٹری کو انسانی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے کوڈنگ کے طریقے بدلنے پڑیں گے۔


⬇️ Click to Read this Science & Tech Story in English

Algorithms on Trial: How Social Media Code is Facing Tech Warfare in US Courts


SILICON VALLEY: Tech giants including Meta, Google, TikTok, and Snapchat are defending their core software engineering and algorithmic designs in court. Over 1,000 school districts and 29 states are alleging that features like infinite scrolling and notifications are engineered based on neuroscientific models to exploit adolescent dopamine pathways, leading to widespread mental health crises.

The Intersection of AI Training Data and Decades-Old Laws

The lawsuits also put a spotlight on data privacy and artificial intelligence. Meta is accused of harvesting underage data to train its advanced AI models and refine predictive ad algorithms, violating COPPA regulations. Furthermore, legal challenges against Section 230—a 1996 tech immunity shield—could completely redefine product liability and platform engineering for the modern internet age.

Comments