’جھوٹ کے ساتھ مزید نہیں جی سکتی، خودکشی کا سوچا‘؛ شلپا شندے کا پروڈیوسر پر جنسی ہراسانی کے الزامات جھوٹے ہونے کا اعتراف
ممبئی: معروف بھارتی ٹی وی اداکارہ اور 'بھابھی جی گھر پر ہیں' سے شہرت پانے والی شلپا شندے نے سال 2016ء میں ڈرامہ پروڈیوسر سنجے کوہلی پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور گرفتاری کے مطالبات کے بعد اداکارہ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ طویل عرصے تک ضمیر کے بوجھ اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہیں، یہاں تک کہ ان کے ذہن میں خودکشی جیسے بھیانک خیالات بھی آنے لگے تھے۔
ویڈیو پیغام اور ضمیر کے سامنے جوابدہی کا اعتراف
شِلپا شندے نے اپنے ویڈیو بیان میں ناقدین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ کی مکمل گفتگو سنے بغیر صرف ایک مختصر کلپ کی بنیاد پر ان کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی نے سچ بولنے یا اعترافِ جرم کرنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا کیونکہ وہ اب اس جھوٹ کے ساتھ مزید زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھیں۔ اداکارہ نے ماضی کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے پروڈیوسر سنجے کوہلی سے معذرت کی اور کہا کہ ان کے کیے کے لیے 'معافی' ایک بہت چھوٹا لفظ ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل اور گرفتاری کے مطالبات
اداکارہ کے اس اچانک اور چونکا دینے والے اعتراف کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ صارفین اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے شلپا شندے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے:
- گرفتاری کا مطالبہ: کئی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایک بے قصور شہری پر جھوٹی شکایت اور جنسی ہراسانی کا بدنام کن الزام لگانے پر اداکارہ کو فوری گرفتار کیا جائے۔
- شلپا شندے کا جواب: تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ وہ اب کسی کی رائے کی پرواہ نہیں کرتیں، وہ سچ پر قائم ہیں اور اس کے ہر قسم کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
- ماضی کا تنازع: یاد رہے کہ 2016ء میں مقبول شو ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ چھوڑنے کے بعد شلپا نے سنجے کوہلی پر نامناسب رویے کے الزامات لگائے تھے، جنہیں اس وقت پروڈیوسر نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
شوبز انڈسٹری میں اس اعتراف کو ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے جھوٹے الزامات سے حقیقی متاثرین کے کیسز کو نقصان پہنچتا ہے۔

Comments
Post a Comment