یورپی پارلیمنٹ کا بڑا ایکشن! غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر تجارتی پابندیوں کا مطالبہ

European Parliament plenary session debating on international trade laws and West Bank settlements
مقبوضہ فلسطینی اراضی پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف یورپی یونین (EU) کے اندر ایک بڑا سفارتی طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان (MEPs) نے برسلز پر دباؤ بڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں بننے والی تمام اشیاء اور خدمات کی تجارت پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے۔ یورپی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان بستیوں کے ذریعے تجارت جاری رکھنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی توہین ہے۔

سات ماہ کے معصوم بچے کی شہادت اور یورپی ضمیر کی بیداری

یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بیلجیئم کی رکن ہلڈ ویٹمنز نے مقبوضہ مغربی کنارے سے سامنے آنے والی ایک ہولناک ویڈیو کا ذکر کیا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی خاندان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صرف سات ماہ کا معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ "وہ بچہ مر چکا ہے، لیکن کوئی اس کا نام تک نہیں لے رہا۔" جرمن اور آئرش اراکین نے بھی اسرائیل کو حاصل عالمی چھوٹ (Impunity) پر کڑی تنقید کی اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: پاکستان اور قطر کی ثالثی اور ٹرمپ کا نیا تجارتی معرکہ

اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ اجلاس اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کلاس نے تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری امن کوششوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے اس نازک موڑ پر پاکستان اور قطر کی کامیاب ثالثی (Mediation) کی کھل کر تعریف کی، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا۔

دوسری جانب، اسی اجلاس میں یورپی پارلیمنٹ نے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہونے والے "امریکہ-یورپی یونین تجارتی معاہدے" کی حتمی منظوری بھی دیدی، جو جولائی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارسلا وان ڈیر لیین کے مابین اسکاٹ لینڈ میں طے پایا تھا۔ تاہم، یورپی یونین نے اپنی معیشت کو تحفظ دینے کے لیے اس میں ایک سخت شرط رکھی ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2026 کے بعد یورپی اسٹیل اور ایلومینیم پر 15 فیصد سے زیادہ ٹیکس برقرار رکھا، تو یورپ بھی امریکی درآمدات پر رعایتیں فوری ختم کر دے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر مکمل بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ماضی کا ریکارڈ اور قوانین کا پسِ منظر (Evergreen Context):

اسرائیلی بستیوں اور تجارتی پابندیوں کی ٹائم لائن کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق اہم ہیں:

  • مغربی کنارے کی بستیاں: 1967 کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر 150 سے زیادہ غیر قانونی بستیاں قائم کر رکھی ہیں، جہاں ساڑھے سات لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد ہیں، جو چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔
  • عالمی عدالت کا فیصلہ (ICJ Rule): عالمی عدالتِ انصاف نے واضح کر رکھا ہے کہ ان بستیوں سے نکلنے والی مصنوعات (جیسے پھل، سبزیاں اور وائن) کی خرید و فروخت بین الاقوامی قوانین کے مطابق ناجائز ہے۔
  • سیکشن 230 اور ٹرمپ کا ریکارڈ: ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دور میں بھی یورپی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگانے کے لیے مشہور رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یورپ نے 2029 تک کی سخت 'sunset clause' کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدہ منظور کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے اس اہم سیشن سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اب مغربی دنیا کے اندر بھی اسرائیل کے لیے نرم گوشہ ختم ہو رہا ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان کی سفارتی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں رنگ لا رہی ہیں، وہاں دوسری طرف یورپ معاشی اور اخلاقی محاذ پر بڑے فیصلے کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

EU Lawmakers Demand Total Trade Ban on Illegal Israeli Settlements; Approve US Trade Pact


STRASBOURG: Members of the European Parliament (MEPs) have strongly urged the European Union to completely halt trade with illegal Israeli settlements in the occupied West Bank. During a plenary debate, lawmakers argued that ongoing commercial relations violate ICJ rulings. Concurrently, EU foreign policy chief Kaja Kallas highly praised the vital mediation efforts led by Pakistan and Qatar in advancing the US-Iran peace dialogue to reopen the Strait of Hormuz.

Passage of the EU-US Trade Agreement Under Trump

In the same session, the European Parliament officially approved the long-delayed EU-US trade legislation based on the 2025 Turnberry agreement between Donald Trump and Ursula von der Leyen. However, Europe implemented robust safeguard mechanisms, including a sunset clause expiring in 2029 and strict retaliatory tariff measures if Washington breaches the agreed 15% steel and aluminum tariff caps after December 2026.

Comments