سات ماہ کے معصوم بچے کی شہادت اور یورپی ضمیر کی بیداری
یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بیلجیئم کی رکن ہلڈ ویٹمنز نے مقبوضہ مغربی کنارے سے سامنے آنے والی ایک ہولناک ویڈیو کا ذکر کیا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی خاندان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صرف سات ماہ کا معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ "وہ بچہ مر چکا ہے، لیکن کوئی اس کا نام تک نہیں لے رہا۔" جرمن اور آئرش اراکین نے بھی اسرائیل کو حاصل عالمی چھوٹ (Impunity) پر کڑی تنقید کی اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: پاکستان اور قطر کی ثالثی اور ٹرمپ کا نیا تجارتی معرکہ
اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ اجلاس اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کلاس نے تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری امن کوششوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے اس نازک موڑ پر پاکستان اور قطر کی کامیاب ثالثی (Mediation) کی کھل کر تعریف کی، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا۔
دوسری جانب، اسی اجلاس میں یورپی پارلیمنٹ نے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہونے والے "امریکہ-یورپی یونین تجارتی معاہدے" کی حتمی منظوری بھی دیدی، جو جولائی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارسلا وان ڈیر لیین کے مابین اسکاٹ لینڈ میں طے پایا تھا۔ تاہم، یورپی یونین نے اپنی معیشت کو تحفظ دینے کے لیے اس میں ایک سخت شرط رکھی ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2026 کے بعد یورپی اسٹیل اور ایلومینیم پر 15 فیصد سے زیادہ ٹیکس برقرار رکھا، تو یورپ بھی امریکی درآمدات پر رعایتیں فوری ختم کر دے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر مکمل بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ماضی کا ریکارڈ اور قوانین کا پسِ منظر (Evergreen Context):
اسرائیلی بستیوں اور تجارتی پابندیوں کی ٹائم لائن کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق اہم ہیں:
- مغربی کنارے کی بستیاں: 1967 کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر 150 سے زیادہ غیر قانونی بستیاں قائم کر رکھی ہیں، جہاں ساڑھے سات لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد ہیں، جو چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔
- عالمی عدالت کا فیصلہ (ICJ Rule): عالمی عدالتِ انصاف نے واضح کر رکھا ہے کہ ان بستیوں سے نکلنے والی مصنوعات (جیسے پھل، سبزیاں اور وائن) کی خرید و فروخت بین الاقوامی قوانین کے مطابق ناجائز ہے۔
- سیکشن 230 اور ٹرمپ کا ریکارڈ: ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دور میں بھی یورپی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگانے کے لیے مشہور رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یورپ نے 2029 تک کی سخت 'sunset clause' کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدہ منظور کیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے اس اہم سیشن سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اب مغربی دنیا کے اندر بھی اسرائیل کے لیے نرم گوشہ ختم ہو رہا ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان کی سفارتی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں رنگ لا رہی ہیں، وہاں دوسری طرف یورپ معاشی اور اخلاقی محاذ پر بڑے فیصلے کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

Comments
Post a Comment