امریکہ کا ایران پر بڑا حملہ؛ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی نظام تباہ
جنوبی ایران دھماکوں سے لرز اٹھا؛ حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے شدید اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ متعدد مقامات پر میزائل حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، سیریک، قشم جزیرے اور بندرعباس کے اطراف ہونے والے دھماکوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں کچھ حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات آنا باقی ہیں۔
یاد رہے کہ اس حملے کا پس منظر ایک روز قبل شروع ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب گشت کرنے والے ایک انتہائی جدید امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی افواج نے مار گرایا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ محفوظ رہے، لیکن انہوں نے فوری طور پر سخت جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا تھا۔ اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی تھی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جوابی کارروائی کی دھمکی اور سیز فائر خطرے میں
اس تازہ ترین فوجی تصادم نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں ہونے والے جنگ بندی (Ceasefire) کے معاہدے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے:
- ایران کا جوابی وار: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی اہداف کے خلاف ڈرون اور میزائل کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
- ایرانی پارلیمنٹ کا انتباہ: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم سفارت کاری کی زبان پسند کرتے ہیں، لیکن دوسری زبانیں زیادہ روانی سے بولنا جانتے ہیں۔"
- معاہدے کی امیدیں برقرار؟ حیران کن طور پر، ان حملوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ چند دنوں میں ہو سکتا ہے، جو کہ 100 دن سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی یہ نئی جنگ خطے میں ایک وسیع تر علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment