برطانیہ میں پناہ گزینوں اور مقامی شہریوں کے مابین کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اتوار کے روز شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ایک سوڈانی پناہ گزین، ہادی الودید کی جانب سے مقامی برطانوی شہری اسٹیفن اوگلوی پر قاتلانہ حملے کے بعد احتجاج کی لہر اسکاٹ لینڈ تک پھیل گئی ہے۔ گلاسگو سمیت متعدد اسکاٹش شہروں میں شدید نسل پرستانہ مظاہرے اور اقلیتوں پر پرتشدد حملے شروع ہو گئے ہیں جس نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
چہرے چھپائے سیکڑوں مظاہرین کا گلاسگو سٹی سینٹر پر دھاوا
رپورٹ کے مطابق، گلاسگو سٹی سینٹر کے مرکزی تجارتی علاقے 'بوکینن اسٹریٹ' کے قریب سیکڑوں مشتعل نسل پرست افراد جمع ہوئے، جنہوں نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور ہاتھوں میں یونین جیک (برطانوی پرچم) اور نسل پرستانہ بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان مظاہرین نے علاقے میں موجود نسلی اقلیتوں کے افراد کو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس اچانک مہم جوئی اور حملوں کے نتیجے میں تین عام شہری شدید زخمی ہوئے، جبکہ مشتعل ہجوم پر قابو پانے کی کوشش میں دو پولیس افسران بھی زخمی ہو گئے۔
گلاسگو کے علاوہ اسکاٹ لینڈ کے دیگر شہروں بشمول ایڈنبرا، فالکرک، پرتھ، اور آئر شائر کے ساتھ ساتھ پیزلے میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ تاہم، ریلیف کی بات یہ ہے کہ گلاسگو کے علاوہ دیگر شہروں میں مظاہرے پرامن رہے اور وہاں سے کسی قسم کے پرتشدد واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
حکومت اور پولیس کا سخت ترین ایکشن کا انتباہ
اسکاٹش قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان حملوں پر انتہائی سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں:
- نسل پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں: اسکاٹ لینڈ پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل ایلن وڈیل نے واضح پیغام دیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی دھرتی پر نسل پرستی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور پولیس مستقبل میں ایسے مظاہروں سے سختی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
- فرسٹ منسٹر کی مذمت: اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے ان پرتشدد حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ گزینوں یا اقلیتوں کے خلاف ایسے واقعات کو ریاست کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
- سیکیورٹی میں اضافہ: تمام متاثرہ شہروں کے مرکزی مقامات اور اقلیتی آبادیوں کے گرد سیکیورٹی گشت کو بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
بیلفاسٹ سے شروع ہونے والی یہ چنگاری اب اسکاٹ لینڈ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جو برطانوی حکومت کے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے نظام پر داخلی دباؤ میں شدید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment