اجنبیوں سے شادی اور ماضی کے بھیانک جرائم: انسانی ٹچ
اس رئیلٹی شو کا فارمیٹ یہ ہے کہ سنگل لڑکے اور لڑکیاں پہلی بار شادی کے منڈپ پر ملتے ہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں اور پھر کٹھ پتلیوں کی طرح کیمروں کے سامنے اپنی ازدواجی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن انسانی جذبات سے کھیلے جانے والے اس کھیل میں ہولناک موڑ تب آیا جب معلوم ہوا کہ کئی مرد اداکاروں کا ماضی شدید مجرمانہ تھا۔ وہ منشیات کی اسمگلنگ، گھریلو تشدد اور لڑائی جھگڑوں میں سزا یافتہ تھے، لیکن شو کے پروڈیوسرز نے ریٹنگ کے چکر میں یہ سچائی ان معصوم خواتین سے چھپائے رکھی جن کی ان مجرموں سے شادی کروائی گئی۔
برطانیہ میں تو صورتحال اس وقت بحران کا شکار ہو گئی جب شو کی دو خاتون شرکاء نے بی بی سی پینوراما کی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ شو کے دوران ان کا ریپ (Rape) کیا گیا۔ اس ہنگامے کے بعد برطانوی چینل 4 نے شو کی اسٹریمنگ فوری طور پر روک دی ہے اور معاملے کی بیرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ادھر آسٹریلیا کے 9 سابق اسٹارز نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شوز میں آنے والوں کا کریمنل بیک گراؤنڈ چیک کرنے کا نظام سخت کیا جائے۔
تبصرہ و تجزیہ: ریٹنگ کی ہوس اور سستی شہرت کا انجام
اس پورے تنازع پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ میڈیا اسٹوڈیوز اب ریٹنگ اور ڈالرز کمانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ چینل 9 اور اینڈیمول شائن جیسی بڑی پروڈکشن کمپنیاں اگرچہ کاغذات پر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے پاس کڑے نفسیاتی اور طبی ٹیسٹ موجود ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ سب محض دکھاوا ہے۔ جب تک شوز میں حصہ لینے والوں کی سیکیورٹی اور عزتِ نفس کو کاروباری منافع سے اوپر نہیں رکھا جائے گا، رئیلٹی شوز کے نام پر ایسے جرائم ہوتے رہیں گے۔
رئیلٹی شوز کے ہولناک حادثات کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
ٹی وی شوز کی تاریخ میں ریٹنگ کی اس ہوس نے پہلے بھی کئی زندگیاں نگلی ہیں، جو اس اسٹوری کو ہمیشہ کے لیے ایورگرین بناتی ہیں:
- لو آئی لینڈ اسکینڈلز (Love Island): برطانیہ کے اس مشہور شو کے سابقہ تین شرکاء اور خود شو کی ہوسٹ کیرولین فلیک نے شدید ذہنی دباؤ اور آن لائن ٹرولنگ کی وجہ سے خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد رئیلٹی شوز کے قوانین سخت کیے گئے۔
- دی جیری اسپرنگر شو (The Jerry Springer Show): اس شو میں لوگوں کے ذاتی تنازعات کو سرعام اچھالا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں سال 2000 میں ایک خاتون شریک کو شو نشر ہونے کے اگلے ہی دن اس کے سابق شوہر نے قتل کر دیا تھا۔
- کوریا کا 'ملاقات' شو (Jjajak): 2014 میں جنوبی کوریا کے اس رئیلٹی شو کی ایک خاتون نے شو کی شوٹنگ کے دوران ہی پروڈیوسرز کے شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے سیٹ پر خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد وہ شو ہمیشہ کے لیے بند کرنا پڑا۔
رئیلٹی شوز کا یہ کالا سچ دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا اور برطانیہ کے میڈیا واچ ڈاگز ان کمپنیوں پر کتنا بھاری جرمانہ لگاتے ہیں اور کیا مستقبل میں گلیمر کے پیچھے چھپے ان مجرموں کا راستہ روکا جا سکے گا یا نہیں۔

Comments
Post a Comment