بیماریوں کی روک تھام؛ گوگل کا لیبارٹری میں تیار کردہ کروڑوں مچھر چھوڑنے کا فیصلہ

Scientist examining lab grown mosquitoes under microscope for Google Debug disease prevention project

معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے مچھروں سے پھیلنے والی مہلک بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایک انوکھا اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ گوگل اپنے ایک منفرد منصوبے کے تحت امریکی ریاست فلوریڈا میں 3 کروڑ 20 لاکھ خصوصی مچھر چھوڑنے جا رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ عام مچھر نہیں ہیں بلکہ انہیں لیبارٹری میں خاص قسم کے بیکٹیریا سے متاثر کر کے تیار کیا گیا ہے، اور سائنسی ماہرین اس منصوبے پر بالکل بھی حیران نہیں ہیں۔

گوگل کا 'ڈی بگ' پروگرام اور جدید ٹیکنالوجی

گوگل اپنے ایک دہائی پرانے لیکن کم معروف پروگرام 'ڈی بگ' (Debug) کے ذریعے مچھروں سے پھیلنے والے امراض کو کم کرنے کے مشن پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں سافٹ ویئر انجینئرز، حیاتیات دانوں (Biologists)، کیڑوں کی افزائش کرنے والے خصوصی روبوٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مہارت کو یکجا کیا گیا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس ایک تجرباتی استعمال کا اجازت نامہ فائل کیا تھا، جس کے تحت مچھروں کو 'وولبیکیا پائپنٹِس' نامی بیکٹیریا کی مخصوص قسم کا انجکشن دیا گیا ہے تاکہ ان کی افزائشِ نسل کو روکا جا سکے۔

ڈی بگ ویب سائٹ کے مطابق، ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر مچھروں کی افزائش اور ان پر کام کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ مچھر بہت نازک ہوتے ہیں اور انہیں مطلوبہ تعداد میں پالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، گوگل اب ایسی جدید ترین ٹیکنالوجیز تیار کر چکا ہے جس سے یہ کام اب ممکن ہو گیا ہے۔

دو سالہ منصوبہ اور مچھروں کی تعداد

وفاقی رجسٹر کے نوٹس کے مطابق، اس تجربے کو دو سالہ منصوبے کے تحت چلایا جائے گا جس میں فلوریڈا اور کیلیفورنیا کو شامل کیا گیا ہے۔

  • پہلا سال: لیبارٹری میں پیدا کیے گئے اور نس بندی (Sterilization) کے عمل سے گزرنے والے 1 کروڑ 60 لاکھ نر مچھر فضاء میں چھوڑے جائیں گے۔
  • دوسرا سال: منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مزید 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر فضاء میں چھوڑے جائیں گے۔

گوگل کے اس اقدام کا مقصد ان نر مچھروں کے ذریعے جنگلی مچھروں کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہے، البتہ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس تجربے کے لیے کن مخصوص شہروں کا انتخاب کیا جائے گا اور یہ ٹیسٹ کس تاریخ کو شروع ہوگا۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Disease Prevention: Google to Release Millions of Lab-Grown Mosquitoes in Florida


Tech giant Google is set to execute a major health experiment by releasing 32 million bacteria-infected, lab-grown mosquitoes in Florida to combat mosquito-borne diseases. This initiative is part of Google's decade-old but lesser-known 'Debug' program, which integrates software engineering, biology, automated rearing robots, and artificial intelligence to mitigate public health crises.

The Science Behind Google's 'Debug' Project

The program utilizes lab-reared male mosquitoes injected with a specific strain of Wolbachia pipientis bacteria. When these modified males mate with wild females, the resulting eggs do not hatch, systematically reducing the overall pest population. While large-scale breeding was historically constrained due to the fragile nature of mosquitoes, Google's automated robotics and AI tech have finally made mass production scalable.

A Two-Year Implementation Timeline

According to the Federal Register, the experiment will span over two years across designated zones in Florida and California. The framework outlines the release of 16 million sterilized male mosquitoes during the initial year, followed by an additional 16 million in the subsequent phase. The exact testing timeline and city coordinates remain undisclosed to the public.

This biological intervention marks a pivotal milestone in utilizing automated technology to neutralize global vector-borne diseases.

Comments