"وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ اسے چاقو مارا گیا ہے"
وائرل ویڈیو کے مطابق، شدید زخمی ہنری نوواک پولیس اہلکاروں کے سامنے تڑپتے ہوئے بار بار دہائی دے رہا تھا کہ اسے چاقو مارا گیا ہے اور وہ سانس نہیں لے پا رہا۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک اور شخص، جسے وکرم ڈگووا بتایا جا رہا ہے، نے بھی نوجوان کی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کا رویہ انتہائی سرد اور غیر پیشہ ورانہ رہا۔ اس بے حسی کے نتیجے میں نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
اس واقعے کی ویڈیو جیسے ہی منظرِ عام پر آئی، پورے برطانیہ میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کے اس رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس وقت پر طبی امداد فراہم کرتی یا ایمبولینس کا انتظار کرنے کے دوران نوجوان کو ہتھکڑی لگانے کے بجائے اس کے زخموں کو سنبھالتی، تو شاید اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
ملک گیر احتجاج اور سڑکوں پر پولیس سے جھڑپیں
مظاہرین اس ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور برطانوی حکومت سے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں حالات کشیدہ ہو چکے ہیں:
- شدید عوامی احتجاج: ہنری نوواک کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور برطانوی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
- پولیس کے ساتھ جھڑپیں: متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں عوام انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
- حکام سے تحقیقات کا مطالبہ: سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں ہونے والا یہ واقعہ اب محض ایک جرم کا کیس نہیں رہا، بلکہ اس نے برطانوی پولیسنگ سسٹم اور انسانی حقوق کے تحفظ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

Comments
Post a Comment