عالمی ردِعمل: یوکرین کا شکریہ، روس کا طنز اور ٹرمپ کا تیکھا وار
کیئر اسٹارمر کے استعفیٰ پر یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے یورپ اور یوکرین کا دفاع مضبوط ہوا۔ دوسری طرف، روس نے روایتی سرد مہر رویہ اپناتے ہوئے طنز کیا کہ اسٹارمر نے روس برطانیہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کچھ خاص نہیں کیا اور نہ ہی ان کے جانے سے کوئی فرق پڑے گا۔
سب سے سنسنی خیز ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آیا، جنہوں نے اسٹارمر کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر ان کے استعفیٰ کی پیشگوئی کر دی۔ ٹرمپ نے نیک خواہشات کا اظہار تو کیا لیکن ساتھ ہی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹارمر امیگریشن اور انرجی کے محاذ پر بری طرح ناکام رہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں نیٹو فورسز، ماحول دوست توانائی (ونڈ فارمز) اور ایران پر امریکی حملوں میں عسکری مدد نہ دینے پر ٹرمپ اور اسٹارمر کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: بریگزٹ کے بعد کا برطانیہ اور سیاسی عدم استحکام
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ 2016 میں یورپی یونین سے علیحدگی (Brexit) کے بعد سے برطانیہ مستقل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ٹریڈ ڈیلز، بارڈر چیکس اور گرین انرجی جیسے معاملات نے یکے بعد دیگرے کئی وزرائے اعظم کی قربانی لی ہے۔ اگرچہ اسٹارمر نے جولائی 2024 میں اقتدار سنبھال کر یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کی، لیکن معاشی چیلنجز اور اندرونی دباؤ نے انہیں صرف دو سال میں ہی ہٹانے پر مجبور کر دیا۔ اب ان کے جانشین کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ ان ادھورے معاہدوں کو آگے بڑھانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔
برطانوی وزرائے اعظم کے استعفوں کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
برطانیہ کی حالیہ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیرِ اعظم ہاؤس) کسی بھی لیڈر کے لیے مستقل ٹھکانہ ثابت نہیں ہو پا رہا:
- ڈیوڈ کیمرون (2016): بریگزٹ ریفرنڈم میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
- تھریسا مے (2019): یورپی یونین کے ساتھ طلاق (Brexit Deal) پارلیمنٹ سے پاس نہ کروانے پر روتے ہوئے مستعفی ہوئیں۔
- بورس جانسن (2022): کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی گیٹ اسکینڈل اور اخلاقی تنازعات کی وجہ سے اپنی ہی پارٹی کے دباؤ پر الگ ہوئے۔
- لِز ٹراس (2022): برطانوی تاریخ کی مختصر ترین وزیرِ اعظم، جو اپنی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث صرف 45 دن بعد ہی استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئیں۔
برطانیہ کا یہ نیا سیاسی بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ یورپی سیاست اس وقت بدترین دور سے گزر رہی ہے جہاں صرف برطانیہ ہی نہیں، بلکہ جرمنی اور فرانس جیسے بڑے ممالک بھی اندرونی سیاسی مشکلات کا شکار ہیں۔

Comments
Post a Comment