کراچی ڈویژن اور سندھ بھر میں وائرس کا بدترین بریک ڈاؤن
وفاقی وزیرِ صحت نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے نمایاں کامیابی کراچی ڈویژن میں حاصل ہوئی ہے، جہاں پولیو وائرس کی گردش میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی اور تاریخ میں پہلی بار 12 میں سے 11 ماحولیاتی نمونے یکمشت منفی آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سندھ کے دیگر تمام ڈویژنز سے لیے گئے تمام 17 ماحولیاتی نمونے بھی مکمل طور پر منفی رپورٹ ہوئے ہیں۔ طویل عرصے بعد قمبر اور کشمور جیسے ہائی رسک اضلاع سے پولیو وائرس کی گردش کا خاتمہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، جبکہ بدین اور میرپورخاص میں مسلسل دوسرے ماہ بھی نمونوں کا منفی آنا سیکیورٹی اور صحت کے اداروں کی مشترکہ کامیابی ہے۔
حکومتِ پاکستان اس وائرس کے جڑ سے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے جولائی 2026 کے دوران کراچی میں ایک خصوصی اور جامع انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو فری پاکستان کی منزل کا حصول اور ملک کے ہر بچے کو اس معذوری سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: ماحولیاتی نمونوں کی اہمیت اور مستقبل کے چیلنجز
اس شاندار کامیابی پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا کسی بھی ملک کو پولیو فری قرار دینے کا سب سے پہلا اور اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ سیوریج اور پانی کے نمونوں میں وائرس کا نہ پایا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے میں وائرس پھیلانے والے عناصر اب دم توڑ رہے ہیں۔ تاہم، اس کامیابی پر سستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ آخری دو ممالک ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی موجود ہے۔ جولائی 2026 کی آنے والی خصوصی مہم اس لحاظ سے انتہائی اہم ہوگی کہ اس کامیابی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے اور ہائی رسک موبائل آبادیوں (Refugee and Mobile Populations) کی مانیٹرنگ کو مزید سخت کیا جائے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ کا تاریخی پسِ منظر:
ملک کو پولیو سے پاک کرنے کی طویل جدوجہد اور ریفارمز کا ایک اہم ریکارڈ درج ذیل ہے:
- نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC): ملک بھر میں پولیو مہمات کی لائیو مانیٹرنگ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اس سینٹر کو قائم کیا گیا، جس نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مابین رابطے کو مربوط بنایا۔
- حفاظتی ٹیکہ جات کا عالمی ریکارڈ اور چیلنجز: پاکستان نے مسلسل انکار کرنے والے والدین (Refusal Cases) اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود پولیو ورکرز کی قربانیوں کی بدولت کیسز کی تعداد کو تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچایا ہے۔
- ماحولیاتی نگرانی کا نظام (Environmental Surveillance): پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس کے پاس سیوریج کے پانی سے پولیو وائرس کا سراغ لگانے کا سب سے بڑا اور حساس ترین لیبارٹری نیٹ ورک موجود ہے، جس کی بدولت وائرس پھیلنے سے پہلے ہی مہم شروع کر دی جاتی ہے۔
سندھ اور کراچی سے آنے والے یہ نتائج پاکستان کے روشن اور صحت مند مستقبل کی نوید ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جولائی کی مہم میں ہر شہری پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کرے تاکہ اس بلا کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔

Comments
Post a Comment