ملزم کی شناخت، اعترافِ جرم اور قبضے سے برآمدگی
ایس ایس پی ویسٹ طارق الہٰی مستوئی کے مطابق، گرفتار ملزم کی شناخت محمد سجاول عرف فیاض کے نام سے ہوئی ہے، جو لیاقت چوک کا رہائشی ہے۔ پولیس نے وائرل ویڈیو کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم کی لوکیشن کا پتا لگایا اور چھاپہ مار کر اسے دھر لیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے شراب بھی برآمد ہوئی ہے۔ پولیس حراست میں ملزم نے اپنے گھناؤنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ 22 جون 2026 کی دوپہر رحمت چوک کے قریب پیش آیا تھا جب اس نے سڑک سے گزرتی ہوئی خاتون کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
ملزم کے خلاف ضابطے کے مطابق باقاعدہ مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اسے عدالت سے سخت سے سخت سزا دلوائی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والے ایسے عناصر معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
تبصرہ و تجزیہ: سی سی ٹی وی کیمرے، سوشل میڈیا کی طاقت اور اسٹریٹ ہراسمینٹ
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کیمرے اب مجرموں کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار بن چکے ہیں۔ اگر اس واقعے کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی، تو شاید یہ ملزم آج بھی آزاد گھوم رہا ہوتا اور کسی دوسری معصوم خاتون کو نشانہ بنا رہا ہوتا۔ اسٹریٹ ہراسمینٹ (سڑکوں پر خواتین کو تنگ کرنا) کراچی جیسے بڑے شہروں میں ایک سنگین بحران بن چکا ہے، جہاں خواتین نوکری، تعلیم یا خریداری کے لیے گھروں سے نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ پولیس کی یہ فوری کارروائی قابلِ ستائش ہے، لیکن مستقل حل کے لیے ایسے کیسز کی فاسٹ ٹریک سماعت ہونی چاہیے تاکہ مجرموں کو مہینوں تک ضمانتیں ملنے کے بجائے فوری جیل کی سزا ملے۔
کراچی میں اسٹریٹ ہراسمینٹ اور کارروائیوں کا سابقہ ریکارڈ:
کراچی کی سڑکوں پر خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف ہونے والے ایکشن کا ماضی کا ریکارڈ درج ذیل ہے:
- گلستانِ جوہر موٹر سائیکل ہراسمینٹ کیس (2023): گلستانِ جوہر کی گلی میں ایک موٹر سائیکل سوار وحشی نے دن دہاڑے پیدل چلتی خاتون کے ساتھ انتہائی نازیبا حرکت کی تھی، جس کی سی سی ٹی وی ویڈیو وائرل ہونے پر ملک گیر سطح پر شدید ردِعمل آیا تھا اور ملزم کو طویل چھاپہ مار کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
- تعزیراتِ پاکستان کا قانون (Section 509): پاکستان کے قانون (PPC) کی دفعہ 509 کے تحت کسی بھی خاتون کو سرِعام اشارے کرنا، آوازیں کسنا یا نازیبا حرکات کرنا ایک سنگین جرم ہے، جس کی سزا 3 سال قید اور بھاری جرمانہ ہے۔
- سی سی ٹی وی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم: کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر بھر میں کیمروں کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ سڑکوں پر اکیلی سفر کرنے والی خواتین کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے جرائم کا فوری سدِباب ہو سکے۔
پاکستان بازار پولیس کی اس فوری کامیابی نے شہریوں میں قانون کا اعتماد بحال کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سجاول عرف فیاض جیسے درندوں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی بھی شخص سڑک پر کسی کی ماں بہن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہ کر سکے۔

Comments
Post a Comment