خاتون ڈاکٹر 13 فیصد جھلس گئیں، بینائی محفوظ
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ برنز وارڈ کے ڈاکٹرز نے متاثرہ خاتون کا تفصیلی ابتدائی معائنہ کیا ہے اور ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خاتون ڈاکٹر کا جسم تیزاب پھینکے جانے کے باعث 13 فیصد تک جھلس گیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب کی وجہ سے ان کا چہرہ اور آنکھیں بھی متاثر ہوئی ہیں، تاہم خوش قسمتی سے ان کی بینائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور فی الحال ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
مطلوب مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
دوسری جانب اس وحشیانہ واقعے پر پولیس کی کارروائی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ کے سنڈیمن سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کی لرزہ خیز واردات رونما ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم نے فائرنگ کر دی۔
- مقدمے کا اندراج: سنڈیمن اسپتال انتظامیہ اور متاثرہ خاندان کی مدعیت میں ملزم کے خلاف دہشت گردی اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
- پولیس مقابلہ: کوئٹہ پولیس کے مطابق مبینہ ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں قانون کو مطلوب مرکزی ملزم مارا گیا۔
- کراچی میں علاج: متاثرہ ڈاکٹر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر علاج کی سہولیات کے باعث انہیں فوری طور پر کراچی شفٹ کیا گیا۔
ملک بھر کی طبی اور سماجی تنظیموں نے خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments
Post a Comment