اشرافیہ کی مراعات یا عوامی قربانی؟ وزیراعظم کا بڑا بیان اور ملکی معیشت کا سچا تجزیہ

Prime Minister Shehbaz Sharif addressing women parliamentarians regarding economic reforms and federal budget
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین معاشی موڑ سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی کڑی شرائط ہیں اور دوسری طرف مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران یہ بیان سامنے آیا ہے کہ "ایسا ممکن نہیں کہ عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔" یہ بیان بظاہر جرات مندانہ اور عوامی امنگوں کا ترجمان لگتا ہے، لیکن کیا ملکی بجٹ اور ریاستی ڈھانچہ واقعی اس بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے؟ آئیے اس خبر کے پسِ پردہ حقائق، علاقائی امن، اور معاشی ترجیحات کا ایک تفصیلی اور کڑا تجزیہ کرتے ہیں۔

بجٹ اجلاس، ٹیم پاکستان اور اشرافیہ کا کینسر (Elite Capture)

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ کے جاری اجلاس کے دوران خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ حکومت نے وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون، 128 ارب روپے کی سبسٹڈی اور وسیع پیمانے پر کفایت شعاری مہم کے ذریعے عوامی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ملکی بقا اور معاشی استحکام کے لیے سول و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں کو "ٹیم پاکستان" کا نام دیا، جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے مابین کوآرڈینیشن کو سراہا گیا۔

تاہم، اگر ہم پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا گہرا تجزیہ کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ "ایلیٹ کیپچر" یعنی اشرافیہ کی مراعات ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ترقیاتی رپورٹ (UNDP) کے مطابق، پاکستان کی اشرافیہ (جس میں بڑے جاگیردار، بیوروکریسی، کارپوریٹ سیکٹر اور بڑے سیاستدان شامل ہیں) سالانہ اربوں ڈالرز کی معاشی مراعات اور ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب تک ان مراعات کو قانونی طور پر ختم کر کے براہِ راست ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا، تب تک صرف سرکاری اداروں میں پیٹرول اور پروٹوکول کم کرنے جیسے اقدامات سے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ناممکن حد تک کٹھن رہے گا۔

خواتین کی معاشی خودمختاری اور قومی دھارے میں شمولیت

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اس بجٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سینئر خواتین رہنماؤں، جن میں بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ پرویز، طاہرہ اورنگزیب، سائرہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور شامل تھیں، نے اپنے اپنے حلقوں میں صحت، تعلیم اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے سفارشات پیش کیں۔

پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 49 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن لیبر فورس (کاروبار اور ملازمت) میں ان کی شرکت کی شرح خطے میں سب سے کم ترین سطح پر ہے۔ وزیراعظم کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ آئی ٹی، زراعت اور برآمدات پر مبنی معیشت میں خواتین کو یکساں مواقع دیے جائیں گے۔ اگر حکومت آئی ٹی شعبے میں شزہ فاطمہ خواجہ کی نگرانی میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل فری لانسنگ اور زراعت میں مائیکرو فنانسنگ (چھوٹے قرضے) کے منصوبوں کو شفاف طریقے سے چلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا اور ملکی جی ڈی پی (GDP) کو ایک بڑا سہارا ملے گا۔

علاقائی امن اور معاشی ترقی کا گہرا گٹھ جوڑ

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹ گئے ہیں اور امن قائم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کے بغیر پاکستان سمیت خطے کا کوئی بھی ملک معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے جیو اسٹریٹیجک محل وقوع کو دیکھا جائے تو چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کے لیے امن پہلی بنیادی شرط ہے۔

جب تک بارڈرز پر کشیدگی کم نہیں ہوگی، پاکستان کو اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاعی اخراجات کی نذر کرنا پڑے گا۔ امن قائم ہونے سے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری (FDI) میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومت اپنی توجہ اور فنڈز آبی ذخائر کی تعمیر، معدنیات کی دریافت (جیسے ریکوڈک پروجیکٹ) اور زراعت کی جدید کاری پر مرکوز کر سکے گی۔ یہی وہ چار شعبے ہیں جنہیں موجودہ بجٹ میں معیشت کی مضبوط بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کے معاشی بحران اور بجٹ کا تاریخی ریکارڈ (Evergreen Context):

موجودہ معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے ماضی کے ان معاشی ریکارڈز اور ڈھانچہ جاتی مسائل پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس بحث کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں:

  • آئی ایم ایف (IMF) پروگرامز کا ریکارڈ: پاکستان اب تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 24 سے زائد پروگرامز لے چکا ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ لگنے والی کڑی شرائط، جیسے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes)، ہمیشہ عام آدمی کو متاثر کرتی ہیں جبکہ بنیادی اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں۔
  • ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو (Tax-to-GDP Ratio): پاکستان میں ٹیکس وصولی کی شرح جی ڈی پی کے لحاظ سے تقریباً 9 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ، بڑا ریٹیل سیکٹر اور بااثر جاگیردار ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے۔
  • توانائی کا بحران اور گردشی قرضہ (Circular Debt): پاکستان کی پاور یونیورسٹی اور ایندھن کی درآمدات ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ گردشی قرضہ اربوں روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے بجائے سبسڈیز پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔
  • ماضی کے ریلیف پیکیجز: ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے ریلیف پیکیجز دیے، لیکن افراطِ زر (Inflation) کی بلند شرح کے سامنے یہ پیکیجز اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ثابت ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: کیا یہ صرف سیاسی بیانیہ ہے یا حقیقی تبدیلی؟

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دعویٰ کہ حکومت نے مہنگائی کی عالمی لہر کے اثرات سے عوام کو بچایا اور ایندھن کا کوئی بحران پیدا نہیں ہونے دیا، ایک حد تک درست ہے کیونکہ ملک میں ماضی کی طرح پیٹرول کی طویل قطاریں نظر نہیں آئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور روزمرہ کی اشیاء پر سیلز ٹیکس کا نفاذ عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، "ٹیم پاکستان" کا یہ دعویٰ تب ہی سچا ثابت ہوگا جب پارلیمنٹ میں موجود اشرافیہ خود آگے بڑھ کر اپنے ٹیکسز ادا کرے گی اور ریاستی اخراجات میں ایسی کٹوتی کرے گی جو زمین پر نظر آئے۔ صنعت کا پہیہ تیز کرنے اور برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے شرحِ سود (Interest Rate) میں کمی اور سستی بجلی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ خطے میں امن کے جو مثبت معاشی اثرات وزیراعظم نے عوام تک منتقل کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس کا اصل امتحان آنے والے مالی سال کے دوران ہوگا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت روایتی بیانات یا عارضی سبسڈیز کی نہیں بلکہ کڑے ڈھانچہ جاتی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ کر کے زراعت، آئی ٹی اور معدنیات کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے، ورنہ عوام اور اشرافیہ کے مابین یہ خلیج مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔


⬇️ Click to Read this Political & Economic Analysis in English

PM Shehbaz Sharif Vows to End Elite Privileges Midst Economic Challenges


ISLAMABAD: Prime Minister Shehbaz Sharif, during a high-level meeting with women Members of Parliament from the PML-N, firmly stated that the general public should not bear the brunt of economic sacrifices while the elite continue to enjoy immense privileges. The meeting extensively reviewed the federal budget, macroeconomic stability, regional peace, and initiatives for women empowerment.

Analyzing Pakistan's Structural Economic Challenges and Regional Security

The Prime Minister credited "Team Pakistan"—including civil and military leadership—for averting fuel crises and stabilizing inflation through a PKR 128 billion subsidy and broad austerity drives. However, economic experts highlight that combating long-term inflation requires deep structural reforms, improving the low Tax-to-GDP ratio, and dismantling elite capture. PM Sharif emphasized that long-term regional stability is crucial to expanding exports and developing key sectors like IT, Agriculture, Minerals, and Water Reservoirs.

Comments