"زہریلے مرد" کا موازنہ جراثیم سے: اشتہار کی متنازع کہانی
یہ تنازع ڈیٹول کے ایک کثیر المقاصد ڈس انفیکٹنٹ (Disinfectant) کے اشتہار سے شروع ہوا۔ اشتہار میں ایک مرد کردار کو دکھایا گیا جو اپنی گرل فرینڈ کا موازنہ سابقہ پارٹنر سے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ "میں خود چاہے ورجن نہ ہوں، لیکن میری بیوی کا پاک ہونا ضروری ہے، وہ دوسری گاڑیوں (Second-hand) کی طرح استعمال شدہ نہیں ہونی چاہیے"۔ اگرچہ اشتہار کے آخر میں لڑکی اس مرد کی ذہنیت کو بے نقاب کر کے بریک اپ کر لیتی ہے اور پسِ پردہ آواز آتی ہے کہ "ایسے زہریلے مرد (Toxic Men) ان جراثیم کی طرح ہیں جنہیں ختم کرنے کے لیے ڈیٹول کی ضرورت ہے"، لیکن اشتہار میں استعمال ہونے والے مکالموں نے چینی عوام کو شدید آگ بگولا کر دیا۔
چینی صارفین کا کہنا ہے کہ صفائی کے برانڈ نے اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے خواتین کی عزتِ نفس اور توہین آمیز بیانیے کا سہارا لیا۔ ڈیٹول کی پیرنٹ کمپنی 'ریکیٹ' (Reckitt) نے اتوار کے روز اشتہار ہٹاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان کا مقصد معاشرے میں صنفی عدم مساوات اور زہریلی مردانہ سوچ کو چیلنج کرنا تھا، لیکن انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے شارٹ کلپس نے اصل پیغام کو مسخ کر دیا۔ برانڈ نے اعتراف کیا کہ یہ اشتہار ایک تھرڈ پارٹی ایجنسی نے بنایا تھا، لیکن وہ اس کی منظوری میں ہونے والی غفلت کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: سوشل میڈیا سینسرشپ اور برانڈز کی غیر سنجیدگی
اس پورے اسکینڈل پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اب وائرل ہونے اور "سوشل میسج" دینے کے چکر میں اکثر حد پار کر جاتی ہیں۔ کسی برے مائنڈ سیٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ایسے گھٹیا مکالموں کو اسکرین پر دکھانا الٹا برانڈ کی اپنی ساکھ کو تباہ کر دیتا ہے۔ چین جیسی بڑی مارکیٹ میں جہاں صارفین سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک ہیں، وہاں ایسی حساس غلطی برانڈز کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پروڈکٹ مارکیٹنگ کو ہمیشہ انسانی وقار کے دائرے میں رہنا چاہیے۔
عالمی برانڈز کے متنازع اشتہارات کی ہسٹری:
ماضی میں بھی کئی بڑے انٹرنیشنل برانڈز کو چین اور عالمی مارکیٹ میں اپنی اشتہاری مہم جوئی کی وجہ سے بدترین بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے:
- ڈولچے اینڈ گبانا (Dolce & Gabbana - 2018): اس اطالوی فیشن برانڈ نے چین میں ایک اشتہار بنایا جس میں ایک چینی ماڈل کو اطالوی پیزا کھانے کے لیے چینی اسٹکس (Chopsticks) کا استعمال کرتے ہوئے سکھایا جا رہا تھا۔ اسے چینی ثقافت کی توہین سمجھا گیا اور چین میں آج تک اس برانڈ کا بائیکاٹ برقرار ہے۔
- ڈو (Dove - 2017): باڈی واش کے ایک فیس بک اشتہار میں دکھایا گیا کہ ایک سیاہ فام خاتون نے ڈیٹول نما صابن استعمال کیا اور قمیض اتاری تو وہ سفید فام بن گئی۔ اس پر پوری دنیا میں نسل پرستی کا طوفان کھڑا ہوا اور برانڈ کو معافی مانگنی پڑی۔
- پیپسی (Pepsi - 2017): کینڈل جينر کے ایک اشتہار میں دکھایا گیا کہ ملک میں جاری بلیک لائیوز میٹر احتجاج کے دوران وہ پولیس افسر کو پیپسی کی کین دیتی ہیں اور سارا احتجاج پرامن ہو جاتا ہے۔ اس پر برانڈ پر الزام لگا کہ انہوں نے سنگین عوامی تحریکوں کا مذاق اڑایا ہے۔
ڈیٹول کا یہ کیس تمام برانڈز کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ وائرل ہونے کا شارٹ کٹ بعض اوقات کمپنی کو بند گلی میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چینی مارکیٹ میں ڈیٹول اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کتنی جلدی بحال کر پاتا ہے۔

Comments
Post a Comment