پاک ایران اہم ملاقات! ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور آرمی چیف عاصم منیر کے مابین سیکیورٹی امور پر اتفاق
پاکستانی سفارت کاری کا اعتراف اور ایرانی صدر کی تعریف
ملاقات کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے خطے میں مکالمے، کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو کھل کر سراہا۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف فریقین کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ دوسری طرف، آرمی چیف نے بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس شیئرنگ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا۔
تبصرہ و تجزیہ: بارڈر مینجمنٹ اور مڈل ایسٹ کے بدلتے حالات
پاکستان اور ایران کے مابین ساڑھے نو سو کلومیٹر طویل سرحد (Border) پر سیکیورٹی کے مشترکہ چیلنجز موجود ہیں۔ ماضی میں دہشت گردی اور اسمگلنگ کے چند ناخوشگوار واقعات کے بعد دونوں ممالک نے یہ محسوس کیا کہ تیسری قوتوں کو اس برادرانہ تعلق کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایرانی صدر کا آرمی چیف سے ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران، پاکستان کی عسکری قیادت پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں جاری کشیدگی اور افغانستان کی صورتحال کے پیشِ نظر، پاک ایران عسکری و سفارتی تال میل خطے کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔
پاک ایران تعلقات اور دفاعی تعاون کا پسِ منظر:
دونوں مسلم ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات اور جغرافیائی اہمیت کی ہسٹری ان نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:
- پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک: 1947 میں آزادی کے بعد ایران دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو بطور آزاد ریاست تسلیم کیا تھا، جس سے ان کے گہرے تاریخی رشتے کا آغاز ہوا۔
- ماضی کے دفاعی معاہدے (CENTO): سرد جنگ کے دور میں پاکستان اور ایران "سینٹو" جیسے اہم دفاعی اور عسکری معاہدوں کا حصہ رہے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے سیکیورٹی امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کی۔
- سیکیورٹی ہاٹ لائن اور بارڈر مارکیٹس: حالیہ سالوں میں پاک ایران بارڈر پر باقاعدہ سیکیورٹی ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے اور مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے بارڈر مارکیٹس کا افتتاح بھی کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی خوشحالی بھی آئے۔
نتیجہ فکر یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کا مستحکم ہونا پورے ایشیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ صدر مسعود پزشکیان اور عاصم منیر کی یہ ملاقات صرف بیانات تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ آنے والے دنوں میں بارڈر سیکیورٹی اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی میں اس کے عملی اثرات واضح نظر آئیں گے۔

Comments
Post a Comment