امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایلون مسک کے بیانات پر تنازعہ
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں ہنری نوواک کے قتل کا ذمہ دار یورپی اشرافیہ اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت (Mass Migration) کو ٹھہرایا۔ دوسری جانب ایکس کے مالک ایلون مسک اور برطانوی دائیں بازو کے رہنما نائجل فراج نے بھی اس واقعے کو برطانوی پولیس کی جانب سے گورا نسل کے لوگوں کے خلاف تعصب اور "دو رخی پولیسنگ" (Two-Tier Policing) کا ثبوت قرار دیا۔
وزیراعظم ہاؤس (ڈاؤننگ اسٹریٹ) نے جے ڈی وینس کا نام لیے بغیر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ بیرونی لوگ ہماری جمہوریت میں مداخلت اور سڑکوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانوی حکومت کے مطابق ہنری نوواک کا خاندان اس وقت شدید صدمے میں ہے اور انہوں نے خود اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کی موت کو نفرت، تناؤ یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اس لیے بیرونی عناصر کو ان کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف اور برطانوی سیاست میں ہلچل
اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس ہائی پروفائل کیس کے سیاسی اثرات درج ذیل ہیں:
- امریکی وزارتِ خارجہ کا بیان: مارکو روبیو کی سربراہی میں کام کرنے والے امریکی محکمہ خارجہ نے اس واقعے کو برطانیہ کے "تہذیبی زوال" کی علامت قرار دیا، جس پر وزیراعظم اسٹارمر نے برطانوی پولیس کے دفاع میں اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا۔
- امریکی سفیر کو طلب کرنے کا مطالبہ: برطانوی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کھلی مداخلت کے خلاف احتجاجاً امریکی سفیر کو فوری طور پر طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- اہلِ خانہ سے وزیراعظم کی ملاقات: وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ہنری نوواک کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ہیمپشائر پولیس کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تمام اختلافات کے باوجود امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات مضبوط ہیں، تاہم اندرونی سیاست اور پولیسنگ کے نظام پر بیرونی ڈکٹیٹرشپ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

Comments
Post a Comment