گراؤنڈ زیرو پر قیامت خیز مناظر اور 72 گھنٹے کا "گولڈن ٹائم"
زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ ان کی گونج 1000 میل دور برازیل کے شہر مناؤس تک محسوس کی گئی، جہاں لوگ خوف کے مارے گھروں سے بھاگ نکلے۔ وینزویلا کا سب سے اہم سیمون بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے قریبی ساحلی شہر لاگوائرا، کاٹیا لا مار اور کارابالیڈا اس تباہی کا "گراؤنڈ زیرو" بنے ہوئے ہیں، جہاں کئی بلند و بالا رہائشی ٹاورز اور مشہور ہوٹل مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبی معصوم جانوں کو بچانے کے لیے اگلے 72 "گولڈن" گھنٹے انتہائی اہم ہیں اور امریکی محکمہ دفاع اپنی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں وہاں بھیج رہا ہے۔
اس بڑی انسانی برادری کے لیے اقوامِ متحدہ (UN) کا انسانی ہمدردی کا ادارہ 'اوچا' بھی پوری طرح متحرک ہو چکا ہے۔ فرانس نے 85 ماہر ریسکیو اہلکاروں کی ٹیم فوری روانہ کر دی ہے جبکہ برازیل، میکسیکو، اسپین، پرتگال، کینیڈا اور قطر نے بھی امداد کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام سرکاری ایجنسیوں کو فوری متحرک ہونے کا حکم دیتے ہوئے وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں کو 23 اکتوبر تک اٹھا لیا ہے تاکہ زلزلے سے متعلق امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے عالمی برادری کی اس یکجہتی پر گہرے شکریہ کا اظہار کیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: قدرتی آفت اور وینزویلا کا بدترین سیاسی و معاشی پسِ منظر
یہ زلزلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وینزویلا پہلے ہی برسوں کے معاشی بحران، شدید مہنگائی اور سیاسی اتھل پتھل سے نبرد آزما ہے۔ رواں سال 3 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر سابق ڈکٹیٹر نکولس مادورو کی گرفتاری اور بے دخلی کے بعد ملک میں سیاسی نظام نئے موڑ پر آیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں اس نوعیت کی بدترین قدرتی آفت نے ملک کے کمزور انفراسٹرکچر کی قلعی کھول دی ہے۔ اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ گرتی ہوئی معیشت اور عالمی پابندیوں کے سائے میں جکڑا یہ ملک اس اتنی بڑی تباہی کے بعد اپنے پیروں پر کیسے کھڑا ہوتا ہے اور بین الاقوامی امداد کس حد تک شفاف طریقے سے متاثرین تک پہنچ پاتی ہے۔
لاطینی امریکہ میں آنے والے ماضی کے خوفناک زلزلوں کا ریکارڈ:
وینزویلا اور اس کے قریبی لاطینی امریکی خطے میں زلزلوں کی تاریخ بدترین سانحات سے بھری پڑی ہے:
- ہیٹی کا ہولناک زلزلہ (2010): 7.0 شدت کے اس زلزلے نے دارالحکومت پورٹ او پرنس کو تباہ کر دیا تھا، جس میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور یہ تاریخ کے بدترین انسانی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔
- چلی کا زلزلہ (2010): ہیٹی کے کچھ ہی عرصے بعد چلی میں 8.8 شدت کا خوفناک زلزلہ آیا جس نے سونامی کی لہریں پیدا کیں اور ساحلی شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
- میکسیکو سٹی زلزلہ (2017): 7.1 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر رہائشی عمارتوں اور اسکولوں کو مسمار کیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں جانیں گئیں اور پورا ملک ہلا کر رہ گیا۔
وینزویلا پر ٹوٹنے والی یہ آفت عالمی برادری کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملبے کے نیچے سسکتی ہوئی معصوم جانوں کو نکالنے میں یہ ریسکیو آپریشن کتنا کامیاب رہتا ہے۔

Comments
Post a Comment