دکان پر گپ شپ اور اچانک عقب سے بزدلانہ حملہ
مقتول اسد الرحمان کے بھائی کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق، مقتول اپنے کزن قیوم کے ہمراہ دکان پر موجود تھا اور دکان کی جانب رخ کر کے بیٹھا ہوا تھا۔ مقتول کا بھائی اپنے دیگر کزنز فرخ شجاع اور عامر شہزاد کے ہمراہ دکان کے باہر کھڑا آپس میں گپ شپ کر رہا تھا کہ اسی دوران ملزم محمد جواد پیدل آیا۔ ملزم نے دکان کے قریب پہنچتے ہی پسٹل نکال کر اسد الرحمان پر عقب (پیچھے) سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اسد الرحمان شدید زخمی ہو کر زمین پر گر گیا، جبکہ ملزم ہوائی فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
قتل کی اس سنسنی خیز واردات کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے بھائی نے بتایا کہ گزشتہ شب ملزم محمد جواد چوری کی نیت سے اسد الرحمان کے گھر میں داخل ہوا تھا۔ اسد نے اسے دیکھ لیا اور پکڑنے کی کوشش کی، لیکن ملزم خود کو چھڑا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگلے دن اسد الرحمان نے ملزم کے والدین کے پاس جا کر اس ہولناک حرکت کا گلہ کیا اور ساری بات بتائی۔ ملزم جواد نے اسی بات کا رنج رکھا اور غصے میں آ کر چوری کی شکایت کا بدلہ قتل کی شکل میں لے لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور چھاپے مارے جا رہے ہیں، ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: اسٹریٹ کرائمز اور اسلٹ کلچر کا بڑھتا ہوا کینسر
اس وحشیانہ قتل پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ راولپنڈی اور اس کے مضافات میں اسٹریٹ کرائمز اور ناجائز اسلحے کا کلچر ایک ایسے کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اب عام شہریوں کی جان لے رہا ہے۔ ایک چور میں اتنی ہمت اور فرسٹریشن کا ہونا کہ وہ سرعام دکان پر جا کر گولی چلا دے، یہ ثابت کرتا ہے کہ مجرموں میں قانون کا خوف مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ جب تک مقامی پولیس ایسے جرائم پیشہ افراد اور چوروں کے خلاف ابتدائی سطح پر سخت ایکشن نہیں لے گی اور تھانہ کلچر کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا، تب تک چوری کی شکایتیں اسی طرح قتل کی وارداتوں میں بدلتی رہیں گی۔ قانون کی گرفت کو بیانات سے نکل کر زمین پر سخت ہونا پڑے گا۔
راولپنڈی اور پنجاب میں اسلٹ کلچر کا پسِ منظر:
پنجاب بالخصوص راولپنڈی ڈویژن میں معمولی رنجشوں اور شکایات پر قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا ایک سنگین پسِ منظر ہے:
- ناجائز اسلحے کی بھرپمار: پنڈی اور اس کے ملحقہ اضلاع میں غیر قانونی پسٹل اور اسلحے کی آسان دستیابی نوجوانوں میں جرائم کے رجحان کو بڑھا رہی ہے، جس کے خلاف کئی بار کریک ڈاؤن کیے گئے لیکن نیٹ ورک مکمل ختم نہ ہو سکا۔
- معمولی رنجش پر قتل کے قوانین (Section 302): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد کی سزا موت یا عمر قید ہے، لیکن عدالتی نظام میں سست روی اور گواہوں کو ملنے والی دھمکیوں کے باعث مجرم اکثر فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔
- پنچائت اور والدین کی نااہلی: اکثر دیہی یا نیم شہری علاقوں میں جب چوری یا جرم کی شکایت والدین سے کی جاتی ہے، تو وہ مجرم کی اصلاح کرنے یا اسے پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے الٹا دفاع کرتے ہیں، جس سے ایسے ہولناک حادثات جنم لیتے ہیں۔
اسد الرحمان کا قتل صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے نظامِ عدل کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنڈی پولیس اس فرار ملزم کو کب تک سلاخوں کے پیچھے دھکیلتی ہے اور مقتول کے خاندان کو انصاف دلاتی ہے۔

Comments
Post a Comment