ہالی ووڈ میں نیا طوفان؛ مشہور ماڈل جین این بی بی سی انٹرویو میں رو پڑیں، کانیے ویسٹ پر سنگین الزامات دہرائے
"اس ہولناک واقعے کے دوران میرا دم گھٹ رہا تھا"
جین این نے روتے ہوئے سال 2010 میں ایک میوزک ویڈیو کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شوٹنگ کے دوران کانیے ویسٹ نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس سے وہ شدید خوفزدہ ہو گئی تھیں اور انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کا دم گھٹ رہا ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانیے ویسٹ نے کریو ممبرز کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک قابلِ اعتراض منظر کی شوٹنگ کے دوران کیمرہ ان پر فوکس رکھیں اور اس دوران ریپر نے غلیظ ریمارکس بھی پاس کیے۔
Kanye West Sexual Assault Accuser Jenn An Speaks Out in New Interview 🫤#kanye #ye #jennan #sa pic.twitter.com/YAH3f0wvaZ
— 449 TEA (@449tea) June 10, 2026
عدالتی دستاویزات کے مطابق، جین این نے 2024 میں کانیے ویسٹ کے خلاف صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کا باقاعدہ مقدمہ دائر کیا تھا۔ ماڈل کا مؤقف ہے کہ اس واقعے نے ان کی ذہنی اور جذباتی صحت پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں، جو آج اتنے سال گزرنے کے بعد بھی تفریحی صنعت (شوبز) کے بارے میں ان کی سوچ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بی بی سی انٹرویو کے کلپس وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کانیے ویسٹ کے خلاف ایک نیا غصہ دیکھا جا رہا ہے۔
کانیے ویسٹ کے ترجمان کا دعویٰ اور دفاع
دوسری جانب، کانیے ویسٹ کی قانونی ٹیم اور ان کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ریپر کے دفاع میں درج ذیل مؤقف اپنایا گیا ہے:
- آرٹسٹک منظر نامہ: ترجمان کا کہنا ہے کہ جس منظر پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، وہ خالصتاً ایک تخلیقی اور آرٹسٹک مقصد کے لیے اسٹیج کیا گیا تھا۔
- فلمی قوانین: دفاعی ٹیم کے مطابق، فلم اور ویڈیو پروڈکشن کے مروجہ قوانین کے تحت کوریوگرافڈ یا فرضی جسمانی رابطے کو جنسی استحصال قرار نہیں دیا جا سکتا۔
- عدالتی فیصلہ: اس ہائی پروفائل کیس پر تاحال کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور دونوں فریقین عدالت میں اپنا کیس لڑ رہے ہیں۔
کانیے ویسٹ اور جین این کا یہ قانونی معرکہ اب ہالی ووڈ میں تخلیقی آزادی کی حدود اور فنکاروں کی رضامندی (Consent) کے موضوع پر ایک نئی اور بڑی بحث کا آغاز کر چکا ہے۔

Comments
Post a Comment