میثاقِ جمہوریت کی دعوت اور عمران خان پر کڑی تنقید
خواجہ آصف نے اپنے خطاب کے دوران ماضی کی تلخیاں مٹانے اور اپوزیشن کو ایک بار پھر 'میثاقِ جمہوریت' (Charter of Democracy) کا حصہ بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کا تذکرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ عمران خان نے آئین اور جمہوری روایات کو جتنا نقصان پہنچایا، ملکی تاریخ میں کسی نے نہیں پہنچایا۔ انہوں نے تحریکِ عدم اعتماد کے وقت ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے آرٹیکل 5 کے استعمال اور اسمبلی کی تحلیل کو آئین شکنی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ماضی قابلِ رشک نہیں لیکن میاں نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے احساس کر کے ماضی کو بھلایا تھا، اب بھی اپوزیشن کو ماضی درست کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خواجہ آصف کے رویے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت تحمل کا ہے، وزیرِ دفاع کو ایسا جذباتی ردِعمل نہیں دینا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے ماضی کا ریکارڈ یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا نواز شریف خود کنٹینر پر چڑھ کر آرمی چیف اور فوج کے خلاف تقاریر نہیں کرتے تھے؟ کیا فوج کو انہوں نے 'محکمہ زراعت' نہیں کہا تھا؟ انہوں نے طنزاً کہا کہ حکومت نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔
"کشمیری پاکستان کے پرچم میں دفن ہوتے ہیں": راجا پرویز اشرف کا کرارا جواب
حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر راجا پرویز اشرف نے خواجہ آصف کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ والوں کو کشمیری نہ ماننا کسی صورت قبول نہیں۔ پی پی پی کا کشمیر سے تاریخی رشتہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم کشمیر کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے، اور بلاول بھٹو زرداری کا نعرہ ہے کہ "لواں گے، لواں گے، پورا کشمیر لواں گے"۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کے پرچم میں دفن ہوتے ہیں، اس لیے وزیرِ دفاع کو ایسے نامناسب الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔
قومی اسمبلی کی ہنگامہ آرائی اور میثاقِ جمہوریت کا پسِ منظر:
ایوانِ بالا اور زیریں میں ہونے والی یہ گرما گرمی ملکی سیاست کے ان اہم تاریخی موڑ کی یاد دلاتی ہے جو اس بحث کو مزید گہرا کرتے ہیں:
- میثاقِ جمہوریت (2006): لندن میں میاں نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے مابین دستخط ہونے والا تاریخی معاہدہ، جس کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو روکنا اور سیاسی جماعتوں کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا تھا۔
- آرٹیکل 5 اور اسمبلی کی تحلیل (أپریل 2022): عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے دوران اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر تحریک مسترد کی اور صدر عارف علوی نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا۔
- مراد سعید اور ماضی کا ایوان: خواجہ آصف کے بیان کے مطابق، تحریکِ انصاف کے دور میں ایوان کے اندر شدید ہاتھا پائی اور ڈیسکوں پر دوڑنے جیسے مناظر (مراد سعید کا تذکرہ) بھی پارلیمانی تاریخ کا حصہ بنے۔
نتیجہ فکر یہ ہے کہ کشمیر جیسے حساس ترین قومی اور بین الاقوامی مسئلے پر ریاست کے کلیدی وزراء کے بیانات میں سنجیدگی لازمی ہونی چاہیے، تاکہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور پاکستان کے دفاعی بیانیے کو عالمی سطح پر کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Comments
Post a Comment