ایڈنبرگ لہولہان! اسکاٹ لینڈ میں مسلمانوں پر وحشیانہ حملوں نے اسلامو فوبیا کا کچا چٹھا کھول دیا

Police security outside a Scottish mosque following the violent anti-Muslim incidents in Edinburgh
برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کی آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے، جہاں ایڈنبرگ شہر میں جمعے کی رات ایک جنونی گورے نے مسجد سے نکلنے والے نمازیوں اور مسلمان شہریوں پر چاقو اور لوہے کے راڈ سے وحشیانہ حملے کیے۔ دہشت گردی کے ان پے در پے واقعات میں ۵ مسلمان شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسکاٹش کاؤنٹر ٹیررازم (انسدادِ دہشت گردی) فورس نے ۳۶ سالہ گورے نسل پرست کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن اس واقعے نے پورے یورپ میں مقیم مسلم کمیونٹی کو شدید خوف اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔

"ملک کو بچا رہا ہوں!" سوشل میڈیا پر درندگی کی لائیو ویڈیوز

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خوفناک ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ننگے دھڑ والا برطانوی گورا ہاتھ میں ایک لمبا تیز دھار ہتھیار لیے سڑکوں پر دندناتا پھر رہا ہے اور ایک مسلمان ریسٹورنٹ کے دروازے پر کلہاڑیوں کی طرح وار کر رہا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں جب پولیس اہلکار اسے زمین پر گرا کر قابو کرتے ہیں، تو وہ جنونیوں کی طرح چیخ رہا ہے کہ "میں اپنے ملک کی حفاظت کر رہا ہوں!"۔ اسکاٹش مساجد ایسوسی ایشن کے مطابق، دو نمازیوں پر اس وقت پارک میں حملہ کیا گیا جب وہ بروم ہاؤس مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ سراسر مسلم دشمنی (Anti-Muslim Hatred) اور انتہا پسندی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملزم کو قانون کی سخت ترین سزا دی جائے گی۔ مسلم تنظیموں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے ایک عام لڑائی کے بجائے "اسلامو فوبک اور دائیں بازو کے نظریات کی حامل دہشت گردی" (Far-Right Terror) کے طور پر ڈیل کیا جائے۔

تبصرہ و تجزیہ: نفرت کا یہ کینسر کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا

اس واقعے پر مسلم اسکالرز اور تجزیہ کاروں کا گہرا تبصرہ یہ بنتا ہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی یہ نفرت کوئی اچانک ہونے والا حادثہ نہیں ہے۔ مغربی میڈیا، سیاست دانوں اور سوشل میڈیا پر سالہا سال سے مسلمانوں کے خلاف جو زہریلا پروپیگنڈا نارملائز (Normalize) کر دیا گیا ہے، یہ اسی کا منطقی انجام ہے۔ جب معاشرے میں نسل پرستی اور مذہبی منافرت کو کچلا نہ جائے، تو ایسے جنونی افراد خود کو "ملک کا محافظ" سمجھ کر بے گناہ انسانوں کا خون بہانے نکل پڑتے ہیں۔

برطانیہ میں مسلم دشمنی اور دائیں بازو کے ہنگاموں کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

  • برطانیہ کے نسل پرستانہ فسادات (2024): سال 2024 میں ساؤتھ پورٹ واقعے کے بعد پورے برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں (Far-Right Extremists) نے مساجد پر حملے کیے، مسلمانوں کی دکانیں جلائیں اور لوٹ مار کی تھی، جس کے بعد سینکڑوں گورے انتہا پسندوں کو جیل بھیجا گیا تھا۔
  • فنکسبری پارک مسجد حملہ (2017): لندن کی فنکسبری پارک مسجد کے باہر ایک گورے نسل پرست ڈیرن اسبرن نے نمازیوں پر تیز رفتار وین چڑھا دی تھی، جس کے نتیجے میں ایک مسلمان شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
  • کرائسٹ چرچ کا ہولناک سانحہ (2019): نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں ایک سفید فام دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے لائیو اسٹریمنگ کرتے ہوئے 51 مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس کے منشور میں بھی یہی لکھا تھا کہ وہ "گورے ملک کو تارکینِ وطن سے بچا رہا ہے"۔

ایڈنبرگ کا یہ حملہ برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ جب تک اسلامو فوبیا کو قانونی طور پر ایک سنگین دہشت گردی تسلیم کر کے اس کے نظریاتی سرپرستوں کو نکیل نہیں ڈالی جائے گی، تب تک مغربی سڑکوں پر مسلمانوں کا خون اسی طرح سستا رہے گا۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

Five Injured in Suspected Anti-Muslim Terror Attacks Across Edinburgh


EDINBURGH: Counter-terrorism officers have launched a massive investigation into a series of violent, suspected Islamophobic attacks that left five Muslim men injured in the Scottish capital. A 36-year-old local white man carrying a long weapon was arrested after targeting worshippers leaving the Broomhouse mosque.

UK PM Keir Starmer Condemns the Far-Right Extremism

UK Prime Minister Keir Starmer and Scotland’s First Minister John Swinney strongly condemned the violence, stating that anti-Muslim hatred will face the full force of the law. The Scottish Association of Mosques warned that these horrific attacks are the direct consequence of normalizing anti-Muslim rhetoric in public discourse, urging authorities to treat the incident as far-right terror.

Comments