پاکستان کی سب سے طویل سرنگ اور چلم چوکی کا 4x4 امتحان
استور سے نکل کر یہ قافلہ گوری کوٹ پہنچا۔ گوری کوٹ کوئی عام گاؤں نہیں ہے، یہ مستقبل میں سیاحت کا ایک بہت بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ اس گاؤں کو آزاد کشمیر کی وادیٔ نیلم کے آخری گاؤں "تاؤ بٹ" سے ملانے کے لیے ساڑھے تیرہ کلومیٹر طویل پاکستان کی سب سے لمبی سرنگ (Tunnel) بنائی جا رہی ہے۔ اس راستے کے مکمل ہوتے ہی گلگت بلتستان اور کشمیر کے مابین سیاحت کا نقشہ بدل جائے گا۔
آگے چلم چوکی کی فوجی چیک پوسٹ پر اصل امتحان شروع ہوا، جہاں برزل پاس اور منی مرگ جانے کے لیے ایڈوانس بکنگ اور صرف 4x4 گاڑی کا ہونا لازمی ہے۔ عسکری حکام نے باقاعدہ گاڑی کے نیچے جھک کر فور بائی فور (4x4) کا پرزہ چیک کرنے کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی۔ دشوار گزار راستوں اور برفانی تودوں کی وجہ سے یہ راستہ سال کے بیشتر مہینوں میں بند رہتا ہے، جسے گرمیوں میں کرینوں کی مدد سے کھولا جاتا ہے۔ سمندر کی سطح سے انتہائی بلندی پر واقع برزل پاس اسکینگ (Skiing) کے لیے ایک قدرتی اور بین الاقوامی سطح کا میدان ہے، جہاں پہنچ کر سیاح سحر زدہ رہ جاتے ہیں۔
کشن گنگا، رینبو لیک اور منجمد کر دینے والا پانی
برزل ٹاپ کو پار کرنے کے بعد اترائی شروع ہوئی جو بابوسر سے چلاس جیسی خطرناک تھی، مگر یہاں سڑک نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ منی مرگ کو عبور کرتے ہوئے یہ قافلہ مشہور "رینبو لیک" پہنچا۔ یہ ایک چھوٹی سی سحر انگیز جھیل ہے، جس کا نام یہاں پائی جانے والی نایاب "رینبو ٹراؤٹ" مچھلی اور یہاں اکثر نظر آنے والی خوبصورت قوس و قزح (Rainbow) کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔
شام ڈھلے یہ لوگ "دومیل" میں اپنے خیموں تک پہنچے۔ دریا کے کنارے لگے ان کیمپس کے سامنے بہنے والا دریا کوئی عام دریا نہیں، بلکہ یہ وہی "دریائے نیلم" ہے جسے یہاں "کشن گنگا" کہا جاتا ہے۔ یہ دریا لداخ (بھارت) سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے، منی مرگ سے آگے دوبارہ انڈیا جاتا ہے اور پھر تاؤ بٹ کے مقام پر پاکستان میں واپس آتا ہے۔ سفر کے دوران جب ان کی گاڑی ایک برفانی نالے میں پھنس گئی، تو دھکا لگانے کے لیے انہیں پانی میں اترنا پڑا۔ صرف 20 سیکنڈز کے اندر برف پگھل کر آنے والے اس شدید ٹھنڈے پانی نے ان کی ٹانگوں کو منجمد کر دیا اور وہ سرخ ہو گئیں۔ اس انسانی لمس نے انہیں احساس دلایا کہ سیاچن اور کارگل جیسے شدید سرد محاذوں پر ہمارے فوجی جوان کن کٹھن حالات میں "فراسٹ بائٹ" (Frostbite) کا سامنا کرتے ہوئے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔
سیاحوں کے لیے ایور گرین ٹریول ایڈوائزری (سابقہ ریکارڈ):
- گاڑی کی شرط: چلم چوکی سے آگے عام گاڑی لے جانے کی کوشش ہرگز نہ کریں، وہاں صرف اور صرف جینون 4x4 گاڑی ہی چل سکتی ہے۔
- فوجی اجازت نامہ: منی مرگ اور دومیل کا علاقہ بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے حساس ہے۔ چلم چوکی پہنچنے سے پہلے اپنی ہوٹل یا کیمپنگ کی بکنگ کی رسید لازمی ساتھ رکھیں۔
- برفانی پانی کا خطرہ: پہاڑی نالوں کو پار کرتے وقت پانی میں ننگے پاؤں اترنے سے گریز کریں، شدید ٹھنڈا پانی چند سیکنڈز میں اعصاب کو مفلوج کر سکتا ہے۔
گھنے جنگل اور دریا کے کنارے دومیل کی یہ خوبصورت وادی رات کے اندھیرے میں جتنی مسحور کن تھی، تھکاوٹ کی وجہ سے سیاح اتنی ہی جلدی گہری نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔





Comments
Post a Comment