ای ٹکٹنگ اور ڈرون یونٹ: ٹیکنالوجی سے بدلے شہریوں کے مزاج
کراچی کی سڑکوں پر آنے والی اس حالیہ مثبت تبدیلی کے پیچھے جدید ٹیکنالوجی کا ہاتھ ہے۔ صرف 6 ماہ میں تیار کیے گئے مقامی سافٹ ویئر کے ذریعے نافذ ہونے والے "ای ٹکٹنگ سسٹم" اور کیمرہ مانیٹرنگ نے شہریوں کے رویوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ٹیکسی ڈرائیورز بھی مسافروں کو سیٹ بیلٹ لگوائے بغیر گاڑی نہیں چلاتے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کی پابندی اور کم عمر ڈرائیورز پر ڈھائی ہزار روپے کا بھاری چالان اس سخت مہم کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک جام سے نجات کے لیے جدید "ٹریفک ڈرون یونٹ" اور "ٹریفک فلو یونٹ" متعارف کرائے گئے ہیں، جس نے غلط پارکنگ اور تجاوزات کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: حادثات اور اموات میں 30 فیصد نمایاں کمی
اس پوری مہم کا سب سے بڑا انسانی اور مثبت پہلو یہ ہے کہ سخت جرمانوں اور کیمرہ مانیٹرنگ کی وجہ سے کراچی کی سڑکوں پر خون بہنا کم ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 5 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹریفک حادثات 445 سے کم ہو کر 308 رہ گئے ہیں، جبکہ قیمتی جانوں کا ضیاع 445 سے کم ہو کر 345 ہوا ہے۔ سب سے بڑی کامیابی ہیوی ٹریفک (بڑی گاڑیوں) کے حادثات میں ملی ہے جو 155 سے گر کر صرف 75 رہ گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جب قانون کا ڈر یکساں نافذ ہو، تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ماضی کا ریکارڈ اور کراچی ٹریفک کا پسِ منظر (Evergreen Context):
کراچی کے ٹریفک نظام کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی عروج و زوال پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- 1970ء کی دہائی کا سنہری دور: یہ وہ دور تھا جب کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ، پبلک ٹرانسپورٹ (ٹرامز اور بسوں) اور سڑکوں کے ڈسپلن کی مثالیں پورے خطے میں دی جاتی تھیں اور دیگر ممالک اس ماڈل کو کاپی کرتے تھے۔
- چار دہائیوں کا زوال: گزشتہ 40 سالوں میں سیاسی مداخلت، چنگ چی رکشوں کی بھرمار، تجاوزات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کی وجہ سے کراچی کا پورا ٹریفک انفراسٹرکچر مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔
- تجاوزات کے 34 ہاٹ اسپاٹس: ٹریفک پولیس نے موجودہ سروے میں کراچی کے 34 ایسے اہم مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں غیر قانونی پارکنگ اور مافیاز کی تجاوزات پورے شہر کو گھنٹوں جام کر دیتی ہیں، جن کے خلاف اب گرینڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
ٹریفک قوانین کی پاسداری کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کا یہ جدید اور سخت پلان اگر اسی طرح جاری رہا، تو شاید کراچی اپنا کھویا ہوا 1970ء والا ڈسپلن دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

Comments
Post a Comment