کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت میں بدنام زمانہ خاتون منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے میں ایک اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت میں ملزمہ کے اہم سہولت کاروں کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران، تفتیشی افسر نے ملزمان کے خلاف ایسے ناقابلِ تردید اور ٹھوس شواہد جمع کرا دیے ہیں جس سے ملزمان کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔
500 سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزی ثبوت
پولیس کی جانب سے عدالت عالیہ کے سامنے ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل انتہائی ضخیم دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق، کیس میں نامزد ملزمان ذیشان الرحمان اور سہیل الرحمان بظاہر ایک ایزی لوڈ کی دکان چلاتے ہیں، لیکن اس دکان کی آڑ میں وہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے ساتھ مل کر منشیات کی سپلائی اور کالے دھندے کی رقم کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔
سماعت کے دوران پولیس نے محض کاغذی کارروائی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ملزمہ انمول اور اس کے نیٹ ورک کے دیگر ساتھیوں کے درمیان ہونے والی خفیہ کال ریکارڈنگز اور وائس نوٹس کی تمام تفصیلات بھی جج کے سامنے پیش کر دیں، جس سے پورے گینگ کا طریقہ کار بے نقاب ہو گیا۔
ضمانت مسترد کرنے کی استدعا اور فیصلہ مؤخر
تھانہ بغدادی میں درج اس ہائی پروفائل مقدمے کی تفتیشی رپورٹ میں پولیس نے سخت مؤقف اختیار کیا کہ ذیشان اور سہیل محض دکاندار نہیں بلکہ ملزمہ پنکی کے ریڑھ کی ہڈی جیسے اہم سہولت کار ہیں۔ پولیس نے عدالت سے پرزور استدعا کی کہ ملزمان معاشرے میں اس زہر کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے دستیاب ٹھوس شواہد کی روشنی میں ان کی درخواستِ ضمانت کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ساؤتھ نے دونوں فریقین کے وکلاء کے تفصیلی اور تیکھے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر اپنا حتمی فیصلہ کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Anmol alias Pinky Case: Crucial Evidence Against Drug Dealer's Facilitators Submitted in Court
In a major breakthrough in the high-profile drug trafficking case registered at the Baghdadi Police Station, the investigative team has submitted incriminating evidence against the facilitators of notorious female drug dealer Anmol alias Pinky during a bail hearing at the District and Sessions Court South.
500 Pages of Documentary Evidence & Call Records
The prosecution presented a comprehensive report comprising over 500 pages of documentary evidence tracking illicit financial workflows. According to intelligence details, the co-accused individuals, Zeeshan-ur-Rehman and Sohail-ur-Rehman, operated an Easyload shop as a front configuration to actively manage narcotics distribution logistics and underground money transactions for Pinky's cartel. Furthermore, digital forensics featuring audio recordings and secret voice notes exchanged within the network were officially recorded into the judicial archive.
Bail Verdict Deferred
Terming the shop owners as vital operational pillars of the narcotics ring, police authorities requested the court to reject the post-arrest bail applications immediately based on the available structural data. Following intense cross-arguments from both legal sides, the court deferred the final ruling on the bail application to a later date.
Comments
Post a Comment