پانی بطور ہتھیار اور اقوامِ متحدہ کا چارٹر: ہمارا تبصرہ
نائب وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کے اندر تمام تر مسائل اور تنازعات کا پُرامن اور قانونی حل پہلے سے موجود ہے، لیکن بھارت اس عالمی ضابطے کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سے اقوامِ متحدہ (UN) کے چارٹر پر عمل پیرا رہا ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن پانی روکنے کی بھارتی کوششیں پورے خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہیں۔
یہاں گہرا تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بھارت کی مودی حکومت طویل عرصے سے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا اسے ختم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت اور بقا کا انحصار ان تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پر ہے جن کا کنٹرول اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا مطلب پاکستان کو معاشی اور زراعتی طور پر بنجر کرنے کی ایک گہری بین الاقوامی سازش ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔
سندھ طاس معاہدے کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اس تنازع کی سنگینی اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں:
- معاہدے کا آغاز (1960): یہ تاریخی معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے مابین طے پایا تھا، جس میں عالمی بینک (World Bank) نے ضامن کا کردار ادا کیا تھا۔
- دریاؤں کی تقسیم: اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے تھے۔
- جنگوں میں بھی برقرار رہا: یہ دنیا کا واحد معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965، 1971 کی جنگوں اور کارگل کے شدید تنازع کے باوجود کبھی معطل نہیں ہوا تھا۔ آج بھارت کا اسے معطل کرنا تاریخ کا سب سے بڑا جارحانہ قدم ہے۔
- بھارتی ڈیمز کا تنازع: بھارت نے گزشتہ چند سالوں میں مغربی دریاؤں پر کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس بنا کر اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے، جس پر پاکستان عالمی عدالت بھی جا چکا ہے۔
نتیجہ فکر یہ ہے کہ پانی کا یہ بحران صرف بیانات تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر عالمی بینک اور ضامن طاقتوں نے بھارت کے اس غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کا نوٹس نہ لیا، تو مشرقِ وسطیٰ کی طرح جنوبی ایشیا میں بھی پانی کی یہ جنگ ایک بڑے ایٹمی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment