پانی پر جنگ! بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر دیا

Graphic representation of the Indus Waters Treaty dispute with rivers flowing between Pakistan and India
پاکستان اور بھارت کے مابین دہائیوں پرانا پانی کا تنازع ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک ہنگامی اور سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تاریخی "سندھ طاس معاہدے" (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق، نئی دہلی کا یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بھارت اب پانی کو پاکستان کے خلاف ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پانی بطور ہتھیار اور اقوامِ متحدہ کا چارٹر: ہمارا تبصرہ

نائب وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کے اندر تمام تر مسائل اور تنازعات کا پُرامن اور قانونی حل پہلے سے موجود ہے، لیکن بھارت اس عالمی ضابطے کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سے اقوامِ متحدہ (UN) کے چارٹر پر عمل پیرا رہا ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن پانی روکنے کی بھارتی کوششیں پورے خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہیں۔

یہاں گہرا تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بھارت کی مودی حکومت طویل عرصے سے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا اسے ختم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت اور بقا کا انحصار ان تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پر ہے جن کا کنٹرول اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا مطلب پاکستان کو معاشی اور زراعتی طور پر بنجر کرنے کی ایک گہری بین الاقوامی سازش ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔

سندھ طاس معاہدے کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

اس تنازع کی سنگینی اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں:

  • معاہدے کا آغاز (1960): یہ تاریخی معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے مابین طے پایا تھا، جس میں عالمی بینک (World Bank) نے ضامن کا کردار ادا کیا تھا۔
  • دریاؤں کی تقسیم: اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے تھے۔
  • جنگوں میں بھی برقرار رہا: یہ دنیا کا واحد معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965، 1971 کی جنگوں اور کارگل کے شدید تنازع کے باوجود کبھی معطل نہیں ہوا تھا۔ آج بھارت کا اسے معطل کرنا تاریخ کا سب سے بڑا جارحانہ قدم ہے۔
  • بھارتی ڈیمز کا تنازع: بھارت نے گزشتہ چند سالوں میں مغربی دریاؤں پر کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس بنا کر اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے، جس پر پاکستان عالمی عدالت بھی جا چکا ہے۔

نتیجہ فکر یہ ہے کہ پانی کا یہ بحران صرف بیانات تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر عالمی بینک اور ضامن طاقتوں نے بھارت کے اس غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کا نوٹس نہ لیا، تو مشرقِ وسطیٰ کی طرح جنوبی ایشیا میں بھی پانی کی یہ جنگ ایک بڑے ایٹمی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Water Weaponization: India Unilaterally Suspends Indus Waters Treaty, Says Ishaq Dar


ISLAMABAD: Pakistan's Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar has accused India of illegally and unilaterally suspending the historic Indus Waters Treaty (IWT). Dar emphasized that New Delhi is attempting to use water as a strategic weapon against Pakistan, violating long-standing international laws and the framework brokered by the World Bank in 1960.

The Historic Legacy of the 1960 Treaty Under Threat

The Indus Waters Treaty has successfully survived multiple full-scale wars between the two nuclear-armed neighbors since 1960. Pakistan reaffirmed its commitment to the United Nations charter and peaceful dispute resolution mechanisms, warning that India's aggressive stance over the western rivers (Indus, Jhelum, and Chenab) poses a catastrophic threat to regional stability and agricultural survival.

Comments