سفارش اور پسند ناپسند کے کلچر کا خاتمہ
فیڈریشن ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی ہاکی کے ڈھانچے سے سفارش، پرچی اور ذاتی پسند ناپسند کے روایتی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ پی ایچ ایف اب مکمل طور پر 'ڈیٹا اور ہائی پرفارمنس' پر مبنی جدید نظام متعارف کرا رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جدید دور کی تیز ترین ہاکی میں سائنسی تجزیے اور مسلسل جانچ کے بغیر عالمی سطح پر فتوحات ممکن نہیں، اسی لیے کوچنگ، فٹنس اور حکمت عملی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایڈہاک کمیٹی کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں میچز کے دوران سامنے آنے والے تمام تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ خصوصاً پنالٹی کارنرز کو گول میں تبدیل کرنے کی شرح، حریف ٹیم کے پنالٹی کارنرز کے خلاف دفاعی حکمت عملی، میچ کے دوران ضائع ہونے والے گول کے مواقع اور ان دفاعی غلطیوں کی نشاندہی کی جائے گی جن کی وجہ سے ٹیم کو گول کھانے پڑے۔
مستقبل کے ہیروز کی تلاش اور طویل المیعاد پلاننگ
اس ڈیٹا بیس کا ایک بڑا مقصد سینئر قومی دستے کے لیے نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہے۔ فیڈریشن کے نئے پلان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- فٹنس اور کارکردگی کا جائزہ: رپورٹ میں انفرادی طور پر ہر کھلاڑی کے فٹنس لیول کا سائنسی جائزہ لے کر غیر معمولی صلاحیت کے حامل لڑکوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
- خصوصی تربیتی کیمپ: منتخب ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو مستقبل کے طویل المیعاد پروگراموں کا حصہ بنا کر ان کے لیے ٹارگٹڈ کوچنگ کیمپس لگائے جائیں گے۔
- عالمی ہاکی پاور بننے کا ہدف: پی ایچ ایف ترجمان کے مطابق، گراس روٹ سے لے کر ایلیٹ لیول تک احتساب اور جوابدہی کا کلچر لا کر پاکستان کو دوبارہ عالمی ہاکی کی سپرہاور بنانا ہمارا واحد ہدف ہے۔
اگرچہ انڈر 18 ٹیم کو تیاری کے لیے بہت کم وقت ملا، لیکن پی ایچ ایف ہر ٹورنامنٹ کو ایک سبق کے طور پر دیکھ رہی ہے تاکہ مستقبل میں غلطیوں کو نہ دہرایا جائے اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments
Post a Comment