ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے لیے عارضی معاہدے کی ضرورت ہے
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ایک عارضی معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ خطے میں یکطرفہ سمجھوتے یا ایران کو پیچھے دھکیلنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ بہت بڑی تزویراتی غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی خوش فہمیوں میں رہنے کی ہمیشہ ایک بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔
ایرانی مشیر نے خطے میں طاقت کے نئے توازن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی نیا علاقائی نظم (Regional Order) مزاحمتی محاذ (Resistance Front) کو کمزور کر کے تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی طاقت کو نظرانداز کرنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔
پائیدار امن طاقت کے متوازن نظام سے ہی ممکن ہے
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے عالمی برادری اور مخالفین کو پیغام دیتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر زور دیا:
- ٹھوس طاقت کی اہمیت: پائیدار امن کھوکھلے اور بے بنیاد دعوؤں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے طاقت کا ایک متوازن نظام ضروری ہے۔
- مغربی پروپیگنڈا ناکام: مغرب نے ہمیشہ ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن اب ایران عالمی نقشے پر ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا ہے۔
- مزاحمتی بلاک کی پوزیشن: خطے کے موجودہ حالات ثابت کرتے ہیں کہ ایران کا مزاحمتی بلاک پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔
علی اکبر ولایتی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین تجارتی اور سفارتی محاذ پر کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہے۔

Comments
Post a Comment