دبئی پبلک پراسیکیوشن نے برطانوی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ حاکمِ دبئی کے بھتیجے شیخ سعید بن مکتوم بن راشد آل مکتوم کی سابقہ اہلیہ زینب جوادلی کو باقاعدہ طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ان کے سابق شوہر اور بچوں کے والد کی جانب سے دائر کردہ ایک باقاعدہ شکایت پر عمل میں لائی گئی ہے۔ اس ہائی پروفائل گرفتاری نے ایک بار پھر دبئی کے شاہی خاندان کی نجی زندگی اور قانونی تنازعات کو عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔
بچوں کے اغوا اور ای کرائمز کے سنگین الزامات
سابق جمناسٹ زینب جوادلی پر ان کے سابق شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے عدالت کی طرف سے منظور شدہ ملاقات کے سیشن کے دوران اپنے ہی تینوں بچوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا۔ دوسری جانب زینب کو یو اے ای میں ای کرائمز (آن لائن جرائم) کے قوانین کے تحت بھی ممکنہ گرفتاری کا سامنا ہے، کیونکہ انہوں نے گزشتہ سال شاہی سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے ایک آمنے سامنے کے جھگڑے کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کر دیا تھا۔
زینب کے وکیل نے ان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو کھونے کے شدید خوف میں مبتلا تھیں اور انہوں نے مدد کے لیے آخری چارے کے طور پر لائیو اسٹریمنگ کا سہارا لیا تھا۔ تاہم، شیخ سعید کے وکلاء نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ زینب بچوں کی پرورش کے لیے موزوں خاتون نہیں ہیں، انہوں نے بیٹیوں کو اسکول بھیجنے میں غفلت برتی اور ہوٹل میں قیام کے دوران بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈالا۔
برطانوی وکیل کا ردِعمل اور قانونی کارروائی
دبئی پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور بچوں کے بہترین مفاد اور یو اے ای کے قوانین کے مطابق تمام قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس معاملے پر برطانوی انسانی حقوق کے نامور وکیل ڈیوڈ ہیگ نے بھی آواز اٹھائی ہے:
- وکلاء تک رسائی کا مطالبہ: ڈیوڈ ہیگ نے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زینب کو فوری طور پر ان کے وکیل اور قونصلیٹ تک رسائی دی جائے۔
- رہائی کی اپیل: برطانوی وکیل نے اپیل کی ہے کہ زینب کو حراست سے رہا کر کے دبئی میں موجود ان کے گھر واپس بھیجا جائے۔
- خاندان کی تشویش: زینب کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ منگل کی رات سے ان کا زینب سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا تھا جس کے بعد انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
دبئی شاہی خاندان کا یہ اندرونی تنازعہ اب عدالتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مابین ایک بڑا قانونی معرکہ بن چکا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Ex-Wife of Dubai Ruler's Nephew Taken Into Custody Over Custody Battle
DUBAI: Zenab Javadli, the former wife of Sheikh Saeed bin Maktoum bin Rashid Al Maktoum (nephew of the ruler of Dubai), has been detained by Dubai authorities. The Dubai Public Prosecution confirmed that the arrest followed a complaint lodged by her ex-husband, accusing the former international gymnast of abducting their three children during a court-approved visitation session.
E-Crimes and Parental Kidnapping Allegations
Javadli had spent months confined to her home, fearing security operations aimed at taking her children. She also faces potential prosecution for UAE e-crimes after broadcasting a dispute with security officials via a live stream last year. While her legal representative, David Haigh, states she acted out of desperation to keep her daughters, lawyers for the Sheikh argue she is an unfit mother who neglected the children's schooling and health.
International Legal Concerns
Following her detention, human rights lawyer David Haigh called on UAE authorities to grant Javadli immediate access to her legal team, consulate, and family, urging her release back to her Dubai residence while investigations continue.
Comments
Post a Comment