بڑا دھماکہ؛ صدر ٹرمپ نے اپنے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانش کو اٹارنی جنرل نامزد کر دیا

President Donald Trump and Todd Blanche during an official White House event announcing the attorney general nomination
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سابق ذاتی وکیل اور قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش (Todd Blanche) کو مستقل طور پر امریکہ کا نیا اٹارنی جنرل نامزد کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کو اس نامزدگی کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ٹوڈ بلانش، جو اس وقت قائم مقام کردار میں محکمے کی قیادت کر رہے ہیں، اب باقاعدہ طور پر وزارتِ انصاف (Justice Department) کی کمان سنبھالیں گے۔

وفاداری کا انعام اور پچھلی اٹارنی جنرل کی برطرفی

ٹوڈ بلانش کو شروع میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کے طور پر لایا گیا تھا، تاہم اپریل میں سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی (Pam Bondi) کو ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں ناکامی پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پام بونڈی کی برطرفی کے بعد بلانش نے قائم مقام چارج سنبھالتے ہی ٹرمپ کے ایجنڈے کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھایا اور صدر کے ساتھ اپنی وفاداری کو ثابت کیا۔

بلانش نے چارج سنبھالتے ہی ٹرمپ کے سیاسی حریفوں کے خلاف تحقیقات تیز کر دیں اور سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی کے خلاف ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر فردِ جرم بھی عائد کروائی۔ اس کے علاوہ انہوں نے صدر کے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک طویل تحقیقات کی نگرانی کے لیے ریگن انتظامیہ کے 81 سالہ سابق پراسیکیوٹر جوزف ڈی جینووا کو بھی مقرر کیا۔

1.8 ارب ڈالر کا متنازع فنڈ اور شدید مخالفت

ٹوڈ بلانش کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے 1.776 ارب ڈالر کے ایک مجوزہ "اینٹی ویپنائزیشن فنڈ" (Anti-Weaponization Fund) نے امریکی سیاست میں طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ اس فنڈ کا مقصد ٹرمپ کے ان اتحادیوں کو مالی معاوضہ دینا تھا جو ماضی کی انتظامیہ میں مبینہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے۔

  • شدید ردِعمل: اس فنڈ پر نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ سینیٹ کے ریپبلکن ارکان نے بھی شدید اعتراضات اٹھائے، کیونکہ بلانش نے 6 جنوری کے کیپیٹل ہل حملے میں ملوث پرتشدد عناصر کو اس فنڈ سے ادائیگیاں کرنے کی عوامی سطح پر نفی نہیں کی تھی۔
  • حکومت کا یوٹرن: اس سیاسی دباؤ اور امیگریشن نافذ کرنے والے اداروں کے فنڈز روکنے کی دھمکی کے بعد، وزارتِ انصاف کو رواں ہفتے کے آغاز میں اس منصوبے کو حیران کن طور پر منسوخ کرنا پڑا تھا۔

نیویارک کے سابق وفاقی پراسیکیوٹر ٹوڈ بلانش اس وقت منظرِ عام پر آئے جب انہوں نے نیویارک کے ہش منی (Hush Money) کیس سمیت کئی مقدمات میں ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیے۔ اب اٹارنی جنرل بننے کے لیے انہیں امریکی سینیٹ سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

President Trump Announces Todd Blanche as Nomination for US Attorney General


WASHINGTON: President Donald Trump announced on Wednesday that he intends to formally nominate his former personal defense attorney and current acting Attorney General, Todd Blanche, to permanently lead the Department of Justice. Trump shared his decision during a White House event, confirming that the formal nomination would be submitted on Thursday.

From Defense Lawyer to Chief Law Officer

Blanche previously served as Trump's lead defense attorney during high-profile legal battles, including the New York hush-money trial. He entered the Justice Department as deputy attorney general and took the acting helm following the dismissal of Pam Bondi in April. Since taking over, Blanche has moved aggressively to advance Trump's administrative agenda and target political adversaries.

The Anti-Weaponization Fund Controversy

Blanche recently faced severe bipartisan backlash over a proposed $1.776 billion "Anti-Weaponization Fund" designed to compensate Trump allies for alleged past political persecution. Following heavy resistance from both Democrats and Senate Republicans over concerns that January 6 rioters could receive payouts, the Justice Department was forced to completely scrap the legislative initiative earlier this week.

Comments