پاکستان کی معاشی صورتحال اور تجارتی خسارے کے حوالے سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کا ایک اہم اور تشویشناک بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ تمام تر حکومتی دعووں اور کوششوں کے باوجود ملکی برآمدات (Exports) میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو پا رہا، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
برآمدات میں رکاوٹ اور تاجر برادری کے تحفظات
وزارت تجارت کے اعلیٰ سطحی اجلاس اور برآمد کنندگان (Exporters) سے ملاقاتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تاجر برادری کو اس وقت مختلف پیداواری اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیر تجارت کے مطابق، جب تک ان اندرونی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنا مشکل رہے گا۔
صنعت کاروں اور ویلیو ایڈڈ سیکٹر کے نمائندوں نے وزیر تجارت کو برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات سے آگاہ کیا جن میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:
- بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف: صنعتی شعبے کے لیے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پیداواری لاگت کو بڑھا رہا ہے، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔
- ٹیکسوں کا بوجھ اور ریفنڈز میں تاخیر: تاجروں کے اربوں روپے کے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ریفنڈز پھنسے ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں مائع پذیری (Liquidity) کا شدید بحران پیدا ہو رہا ہے۔
- محدود ورکنگ کیپیٹل: اسٹیٹ بینک کی برآمدی فنانس اسکیموں کے تحت کریڈٹ لمیٹس کم ہونے کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں (MSMEs) کو خام مال کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی اور اصلاحات کا عزم
وزیر تجارت جام کمال خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں پائیدار اضافے کے لیے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر جدید ڈیجیٹل تجارتی نظام اور ای کامرس روابط کو فروغ دینا ہوگا۔ اس سلسلے میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کو متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی برآمد کنندگان کی رسائی چین، یورپ اور مڈل ایسٹ کی بڑی مارکیٹوں تک آسان بنائی جا سکے۔
حکومت نے ان مسائل کے فوری حل کے لیے ایک خصوصی ٹیکنیکل کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے جلد اپنی تجاویز پیش کرے گی۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Domestic Exports Stagnant: Commerce Minister Outlines Core Structural Challenges
Federal Minister for Commerce Jam Kamal Khan acknowledged that Pakistan's domestic exports are not registering the expected growth, terming it a significant macroeconomic concern. During high-level consultative sessions with industrial stakeholders, the minister addressed the core operational hurdles choking outbound trade expansions.
High Production Costs and Liquidity Pressures
Industry leaders, particularly from the value-added textile and manufacturing grids, briefed the ministry regarding compounding overhead costs. The manufacturing ecosystem faces severe challenges, including inflated energy tariffs, steep upfront taxation frameworks, and prolonged delays in liquidity clearance via pending regulatory tax refunds. Furthermore, limited working capital under central bank credit lines has restricted the scaling capacity of micro and small enterprises.
Strategic Interventions and Market Diversification
To overcome the export bottleneck, the Ministry of Commerce is mobilizing technical committees to restructure the Export Facilitation Scheme. The government aims to drive long-term competitiveness by formalizing digital e-commerce channels, enhancing regulatory standard compliance, and targeting robust commodity procurement frameworks within strategic trade corridors across China, the Middle East, and the European Union.
The ministry emphasized that structural policy consistency remains vital to positioning local manufactured goods effectively within highly competitive global retail markets.
Comments
Post a Comment