سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ اور مکہ مکرمہ کے ترقیاتی حکام نے مناسکِ حج کے اہم ترین رکن "رمی جمرات" (شیطان کو کنکریاں مارنے) کے بعد جمرات کمپلیکس کے تمام بیرونی دروازوں کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ قدم حج سیزن کے باقاعدہ اختتام اور اگلے سال کے حج آپریشنز کی تیاریوں کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔
اگلے سال تک داخلہ ممنوع اور سیکیورٹی سخت
سعودی سیکیورٹی حکام کے مطابق، حجاج کرام کے منیٰ سے رخصت ہونے اور طوافِ وداع کی ادائیگی کے بعد جمرات پل اور اس کی طرف جانے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اب کسی بھی عام شہری، غیر ملکی مقیم یا عمرہ زائر کو اگلے سال کے حج سیزن تک جمرات کمپلیکس کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ اس حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔
بحالی اور صفائی کا کام شروع
دروازے بند کرنے کے فوری بعد مکہ مکرمہ کی میونسپلٹی نے جمرات کے وسیع و عریض چار منزلہ کمپلیکس میں بڑے پیمانے پر صفائی اور بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔
- مشینی صفائی: جدید مشینوں اور بھاری گاڑیوں کے ذریعے جمرات کے اطراف سے کچرا اور حجاج کی چھوڑی ہوئی اشیاء کو ہٹایا جا رہا ہے۔
- تکنیکی جائزہ: انجینئرز اور ماہرین کی ٹیمیں جمرات پل کے الیکٹرانک سسٹمز، ایسکلیٹرز (برقی سیڑھیوں)، کولنگ سسٹمز اور سی سی ٹی وی کیمروں کا تکنیکی معائنہ کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی خرابی کو دور کیا جا سکے۔
- عمرہ سیزن کی تیاریاں: حج فلائٹس کی واپسی کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کو اب دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کے استقبال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے لیے مسجد الحرام اور اس کے قریبی مقامات پر انتظامات کو نئے سرے سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔
سعودی حکومت نے امسال حج سیزن کو انتہائی کامیاب اور محفوظ قرار دیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور بہتر نظم و ضبط کی بدولت لاکھوں عازمین نے امن و سکون کے ساتھ مناسک ادا کیے۔

Comments
Post a Comment