سمندری حدود میں ہلاکتیں اور مودی پر اپوزیشن کا دباؤ: انسانی پہلو
بظاہر اس خوشگوار ملاقات کے پیچھے دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں شدید تلخی رہی ہے۔ خلیجِ عمان میں امریکی فوج کی جانب سے ایک آئل ٹینکر پر حملے کے نتیجے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت نے دلی اور واشنگٹن کے مابین شدید سفارتی تناؤ پیدا کر دیا تھا۔ بھارت نے امریکی سفیر کو دو بار طلب کر کے سخت احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ مودی کو اپنی ملکی سیاست میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا تھا کہ انہوں نے امریکہ کے اس اقدام کی براہِ راست مذمت کیوں نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے جی 7 کے اسٹیج پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے آبنائے ہرمز میں ملاحوں کے تحفظ کا معاملہ سختی سے اٹھایا اور عالمی برادری میں "اعتماد کے فقدان" کا رونا رویا۔
![]() |
| Modi at the White House when he visited Trump last year |
تبصرہ و تجزیہ: کشمیر پر ثالثی اور پاکستان کا مضبوط پتا
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ "اگر مودی پر کوئی حملہ ہوا تو امریکہ وہاں کھڑا ہوگا، لیکن اگر کوئی نیا لیڈر ہوا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا"، ظاہر کرتا ہے کہ وہ ریاستی تعلقات سے زیادہ ذاتی روابط اور "آرٹ آف دی ڈیل" پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان اس سردمہری کی ایک بڑی وجہ ٹرمپ کا ماضی میں کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی (Mediation) کی پیشکش کرنا تھا۔ بھارت ہمیشہ سے کشمیر پر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرتا آیا ہے۔ یہاں پاکستان کا سفارتی پتا انتہائی مضبوط رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے واشنگٹن، تہران اور عرب ممالک کے مابین ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر کے ٹرمپ کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا ہے، جس پر دلی شدید زچ کا شکار رہا۔
امریکہ بھارت تجارتی جنگ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
دونوں ممالک کے معاشی اور سیاسی تعلقات کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کے لیے اس تاریخی پسِ منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- ٹیریف کی جنگ (Tariff War): ڈونلڈ ٹرمپ نے فسٹ ٹرم کی طرح بھارت پر سخت تجارتی پابندیاں لگائیں اور بھارتی امپورٹ پر ٹیکس 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا، جسے بعد میں عبوری معاہدے کے تحت 18 فیصد کیا گیا اور حال ہی میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ان ٹیکسوں کو غیر قانونی قرار دے کر 10 فیصد پر لایا ہے۔
- آبنائے ہرمز اور تیل کا بحران: بھارت اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل امپورٹ کرتا ہے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے بھارتی معیشت کو بدترین نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ دنیا کے 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے۔
- ویزہ پابندیاں (H-1B Visas): ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پر کریک ڈاؤن اور ہنر مند بھارتی آئی ٹی ورکرز کے لیے H-1B ویزوں پر لگائی گئی سخت پابندیاں ہمیشہ سے دلی کے لیے تشویش کا باعث رہی ہیں۔
جی 7 کی اس ملاقات کے بعد اگلے ہفتے امریکی حکام نئی دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں تجارتی ڈیل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کا دورۂ بھارت خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کو متاثر کر پائے گا یا ایران اور مشرقِ وسطیٰ کا بحران اس خطے کا نقشہ ہی بدل دے گا۔


Comments
Post a Comment