"امریکہ سنگین اور پیچیدہ جنگ میں داخل ہو چکا ہے"
ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ رہنے والے مائیک فلن نے خبردار کیا کہ امریکہ اس وقت ایک انتہائی سنگین اور پیچیدہ جنگی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے معاملے پر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے بجائے فوجی ماہرین کی پیشہ ورانہ رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ فوجی جرنیل زمینی حقائق کو بہتر سمجھتے ہیں۔
جنرل (ر) مائیک فلن نے مزید کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کے بیانات اور دعووں پر بھی آنکھیں بند کر کے یقین نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کو کسی نئی جنگ میں کودنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس پیچیدہ بحران سے بحفاظت باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے، تاکہ امریکی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔
عالمی ساکھ بچانے کی اپیل
سابق مشیرِ قومی سلامتی نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ خارجہ پالیسی کے اس نازک موڑ پر حکمتِ عملی کو تبدیل کیا جائے:
- جنگ سے گریز: امریکہ مزید کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اب ترجیح بحران کا خاتمہ ہونی چاہیے۔
- عالمی ساکھ کی بحالی: واشنگٹن کو اپنی گرتی ہوئی عالمی ساکھ اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اس کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔
- خارجہ پالیسی کا جال: انٹیلیجنس رپورٹس اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اس لیے فوجی حکمتِ عملی کو اولیت دی جائے۔
مائیک فلن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

Comments
Post a Comment