تحریر : نصراللہ وڑائچ
پاکستان میں ایک طویل عرصے تک 'ڈاکٹر' بننے کو کامیابی، عزت اور معاشی استحکام کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ہر دوسرے والدین کا خواب ہوتا تھا کہ ان کا بچہ سفید کوٹ پہن کر اسٹیتھوسکوپ گلے میں لٹکائے۔ لیکن اب پاکستانی معاشرے میں ایک بہت بڑی اور چونکا دینے والی تبدیلی آئی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی 743 نشستیں خالی رہ گئی ہیں، جس نے تعلیمی اور طبی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نوجوان اب ڈاکٹر بننے کے روایتی خواب سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
کروڑوں کی فیس اور نامعلوم مستقبل: نوجوانوں کا بدلا ہوا روڈ میپ
ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ میڈیکل کی تعلیم کا بے پناہ مہنگا ہونا اور بدلے میں کیریئر کا غیر یقینی ہونا ہے۔ آج کل نجی میڈیکل کالجوں کی صرف ٹیوشن فیس ایک کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہاسٹل اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اتنی بھاری سرمایہ کاری کرنے کے بعد جب ایک نوجوان 5 سال کی سخت پڑھائی اور تھکا دینے والی ہاؤس جاب مکمل کر کے مارکیٹ میں آتا ہے، تو اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری ملازمتیں محدود ہو چکی ہیں اور نجی ہسپتالوں میں تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ نوجوان ڈاکٹروں کو گھر چلانے کے لیے تین تین جگہ کام کرنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف، آئی ٹی (IT)، مصنوعی ذہانت (AI) اور فری لانسنگ نے نوجوانوں کے سامنے متبادل اور تیز رفتار معاشی راستے کھول دیے ہیں۔ گجرانوالہ کے ایک طالب علم طلحہ حسن کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے میڈیکل کالج کا داخلہ چھوڑ کر کمپیوٹر سائنس کو چنا۔ نوجوان اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جہاں ان کے دوست یونیورسٹی کے دوران ہی ڈالرز میں کما رہے ہیں یا سوشل میڈیا پر انفلونسر بن کر مستحکم ہو رہے ہیں، وہاں وہ زندگی کے قیمتی 10 سے 12 سال ایک ایسے شعبے کو کیوں دیں جس کا معاشی مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہو۔
بیرون ملک ویزوں کی بندش اور ہیلتھ سیکٹر کا بحران
ماضی میں ڈاکٹرز ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ، برطانیہ یا خلیجی ممالک کا رخ کرتے تھے جہاں ان کا کیریئر محفوظ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب عالمی قوانین اور ویزا پالیسیوں کی سختی کی وجہ سے یہ راستے بھی محدود ہو چکے ہیں۔ ملک کے اندر صورتحال یہ ہے کہ حکومت بنیادی صحت کے مراکز (BHUs) کو آؤٹ سورس کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ریاست خود کو صحت کے شعبے سے الگ کر رہی ہے۔ لیہ جیسے اضلاع میں اربوں کی لاگت سے ہسپتالوں کی شاندار عمارتیں تو بن چکی ہیں، لیکن حکومت نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
فری لانسنگ کا عروج اور معاشی ریکارڈ (Evergreen Context):
پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت نے نوجوانوں کی ترجیحات کو کس طرح بدلا ہے، اس کا اندازہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ان سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:
- 856 ملین ڈالر کی ترسیلات: رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں پاکستانی فری لانسرز نے ریکارڈ 856 ملین ڈالر ملک بھیجے ہیں، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔
- کم وقت، زیادہ معاشی فائدہ: آئی ٹی اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں صرف 2 سے 3 سال کی ڈگری یا کورسز کر کے نوجوان اس معاشی سطح پر پہنچ رہے ہیں جو ایک ڈاکٹر کو اسپیشلائزیشن (FCPS) کرنے کے بعد بھی 15 سال میں نصیب نہیں ہوتی۔
تبصرہ و تجزیہ: میڈیکل کالجوں میں سیٹوں کا خالی رہ جانا کوئی عارضی بات نہیں، بلکہ یہ پاکستانی نوجوانوں کی ترجیحات میں آنے والی ایک گہری اور مستقل معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اگر حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے روزگار اور تنخواہوں کے ڈھانچے کو بہتر نہ کیا، تو آنے والے سالوں میں ملک میں طبی ماہرین کا ایک سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment