تبصرہ و تجزیہ: فٹ پاتھ بھی غیر محفوظ اور ڈرائیوروں کی بے لگام دوڑ
یہ حادثہ ہمارے سفاک نظام اور روڈ سیفٹی کے قوانین کے منہ پر ایک بڑا طماچہ ہے۔ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کی اکثریت بغیر کسی سخت مانیٹرنگ اور اوور اسپیڈنگ چیکس کے سڑکوں پر موت بن کر دوڑتی ہے۔ غریب دیہاڑی دار مزدور، جو صبح سویرے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے چوکوں اور فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر گاہک کا انتظار کرتے ہیں، انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تیز رفتاری کی یہ اندھی دوڑ ان کی زندگی کا چراغ گل کر دے گی۔ یہاں بنیادی تبصرہ یہ بنتا ہے کہ جب تک تیز رفتار گاڑیوں، فٹ پاتھوں کے تحفظ اور فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے مزدوروں کے لیے مخصوص سیف زونز یا لیبر مارکیٹس قائم نہیں کی جاتیں، ایسے المناک سانحات جنم لیتے رہیں گے۔
پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹس اور ٹریفک قوانین کا پسِ منظر:
پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی لاپرواہی اور سڑکوں پر ہلاکتوں کا ریکارڈ مستقل تشویش کا باعث رہا ہے:
- عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ: ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد پیدل چلنے والوں اور غریب طبقے کی ہوتی ہے۔
- موٹر وہیکل آرڈیننس 1965: پاکستان میں ٹریفک قوانین کا بنیادی ڈھانچہ پرانا ہے، جس کی وجہ سے فٹ پاتھوں کے تحفظ اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر سخت اور عبرتناک سزائیں نافذ کرنے میں شدید قانونی خامیاں موجود ہیں۔
- دیہاڑی دار مزدوروں کا تحفظ: ملک بھر کے شہروں میں لیبر چوک (جہاں مزدور جمع ہوتے ہیں) سڑکوں کے بالکل کنارے واقع ہیں، جہاں کسی قسم کی حفاظتی رکاوٹیں یا گرڈز موجود نہیں ہوتے، جس سے یہ محنت کش طبقہ ہمیشہ ہائی رسک پر رہتا ہے۔
حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کام صرف لاشیں اسپتال منتقل کرنا نہیں، بلکہ ایسے حادثات کے سدِباب کے لیے اسپیڈ گورنرز کا نفاذ اور غریب محنت کشوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنانا ہے۔

Comments
Post a Comment