چار باغ میں قیامت خیز حادثہ! تیز رفتار کوچ نے فٹ پاتھ پر بیٹھے مزدور کچل دیے

Rescue 1122 ambulance moving victims of the Charbagh road accident to Saidu Sharif Hospital
سوات کے علاقے چار باغ میں ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک تیز رفتار فلائنگ کوچ نے فٹ پاتھ پر بیٹھے بے گناہ مزدوروں کو کچل دیا۔ ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق اس دردناک واقعے کے نتیجے میں دو دیہاڑی دار مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو شدید زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے محنتی مزدوروں کی شناخت بلال اور ابراھیم کے نام سے ہوئی ہے، جو روزی روٹی کی تلاش میں وہاں بیٹھے تھے۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر سیدو شریف اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: فٹ پاتھ بھی غیر محفوظ اور ڈرائیوروں کی بے لگام دوڑ

یہ حادثہ ہمارے سفاک نظام اور روڈ سیفٹی کے قوانین کے منہ پر ایک بڑا طماچہ ہے۔ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کی اکثریت بغیر کسی سخت مانیٹرنگ اور اوور اسپیڈنگ چیکس کے سڑکوں پر موت بن کر دوڑتی ہے۔ غریب دیہاڑی دار مزدور، جو صبح سویرے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے چوکوں اور فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر گاہک کا انتظار کرتے ہیں، انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تیز رفتاری کی یہ اندھی دوڑ ان کی زندگی کا چراغ گل کر دے گی۔ یہاں بنیادی تبصرہ یہ بنتا ہے کہ جب تک تیز رفتار گاڑیوں، فٹ پاتھوں کے تحفظ اور فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے مزدوروں کے لیے مخصوص سیف زونز یا لیبر مارکیٹس قائم نہیں کی جاتیں، ایسے المناک سانحات جنم لیتے رہیں گے۔

پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹس اور ٹریفک قوانین کا پسِ منظر:

پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی لاپرواہی اور سڑکوں پر ہلاکتوں کا ریکارڈ مستقل تشویش کا باعث رہا ہے:

  • عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ: ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد پیدل چلنے والوں اور غریب طبقے کی ہوتی ہے۔
  • موٹر وہیکل آرڈیننس 1965: پاکستان میں ٹریفک قوانین کا بنیادی ڈھانچہ پرانا ہے، جس کی وجہ سے فٹ پاتھوں کے تحفظ اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر سخت اور عبرتناک سزائیں نافذ کرنے میں شدید قانونی خامیاں موجود ہیں۔
  • دیہاڑی دار مزدوروں کا تحفظ: ملک بھر کے شہروں میں لیبر چوک (جہاں مزدور جمع ہوتے ہیں) سڑکوں کے بالکل کنارے واقع ہیں، جہاں کسی قسم کی حفاظتی رکاوٹیں یا گرڈز موجود نہیں ہوتے، جس سے یہ محنت کش طبقہ ہمیشہ ہائی رسک پر رہتا ہے۔

حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کام صرف لاشیں اسپتال منتقل کرنا نہیں، بلکہ ایسے حادثات کے سدِباب کے لیے اسپیڈ گورنرز کا نفاذ اور غریب محنت کشوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنانا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Tragedy in Charbagh: Fast-Moving Coach Crushes Laborers on Pavement, 2 Killed


SWAT: A devastating road accident occurred in the Charbagh area, where a speeding flying coach lost control and crushed daily wage laborers waiting on the pavement. According to Rescue 1122 officials, two laborers, identified as Bilal and Ibrahim, lost their lives on the spot, while two others sustained critical injuries. The victims were shifted to Saidu Sharif Hospital.

The Growing Threat to Pedestrians and Laborers on Pakistani Roads

Traffic safety experts have long highlighted the lack of physical barriers near public squares and labor hubs in Pakistan. Without strict implementation of speed limits and proper designated zones for daily wage workers, underprivileged laborers remain highly vulnerable to reckless commercial driving on public highways.

Comments