لٹویا کی فوج نے باقاعدہ تصدیق
کی ہے کہ نیٹو کے جنگی طیاروں نے اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک غیر ملکی ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ اہم واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب فرانسیسی فضائیہ کے طیاروں نے نیٹو کے بالٹک ایئر پولیسنگ مشن کے تحت فوری ایکشن لیتے ہوئے اس ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ لٹوین فوج کے مطابق، یہ ڈرون روسی الیکٹرانک وارفیئر (مداخلت) کے باعث اپنا راستہ بھٹک کر لٹویا کی حدود میں داخل ہوا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کا تعلق اصل میں کس ملک سے تھا۔روسی سرحد کے قریب بیرزگالے میں ڈرون کو نشانہ بنایا گیا
لٹویا کے وزیر دفاع رایوس میلنِس نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈرون کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے کے قریب روسی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور بیرزگالے نامی علاقے کے پاس نشانہ بنایا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ لٹویا کی وزیر خارجہ بائیبا براژے اور وزیراعظم آندرس کولبرگز نے فرانسیسی اتحادیوں اور نیٹو فورسز کی اس فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے جس نے ملک کی فضائی سلامتی کو یقینی بنایا۔
دوسری جانب فرانسیسی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے جنگی طیاروں نے لیتھوانیا کے شہر شیاؤلائی میں قائم نیٹو ایئر بیس سے ہنگامی پرواز کی اور ڈرون کو ایک غیر آباد علاقے میں لے جا کر تباہ کیا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یورپ کے مشرقی حصے کی سلامتی کے لیے فرانس کے پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روس یوکرین جنگ کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کے خدشات
یوکرین اور روس کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران اب ایسے سرحد پار واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- دیگر ممالک کی سرحدوں کی خلاف ورزی: حالیہ مہینوں میں رومانیہ، مالدووا اور دیگر نیٹو ممالک کی فضائی حدود میں بھی ڈرونز داخل ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
- خطے کی سلامتی کو چیلنج: یورپی حکام کا ماننا ہے کہ روس اور یوکرین کا یہ تنازع اب محض دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔
- نیٹو کا ہائی الرٹ: ان بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث نیٹو اتحاد نے اپنی مشرقی سرحدوں پر نگرانی اور فضائی دفاعی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
روسی الیکٹرانک وارفیئر کے اس نئے واقعے نے نیٹو اور روس کے مابین جاری کشیدگی کو ایک بار پھر انتہائی حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

Comments
Post a Comment