عوام پر پابندیاں سخت، اشرافیہ کے لیے ریلیف: دہرے معیار کا تبصرہ
اس فیصلے کا سب سے تکلیف دہ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ جہاں سرکاری بابوؤں اور افسر شاہی کے لیے مفت ایندھن اور گاڑیوں کا کوٹہ بحال کیا گیا ہے، وہیں تجارتی مراکز اور غریب دکانداروں کے لیے اوقات کار کی سخت پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عام مارکیٹس، دکانیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے، شادی ہالز رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے لازمی بند کرنا ہوں گے۔
یہاں بنیادی تبصرہ اور معاشی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ جب ملک شدید معاشی بحران، آئی ایم ایف (IMF) کے قرضوں اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کا سامنا کر رہا ہو، تو ایسے میں سرکاری سطح پر پیٹرول اور گاڑیوں کی عیاشیوں کو دوبارہ کھولنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ حکومت ایک طرف عوام کو سادگی اور تاجروں کو دکانیں جلدی بند کرنے کا درس دیتی ہے، لیکن جب بات اپنے افسران کی مراعات کی آتی ہے تو معاشی سادگی کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
ماضی کا ریکارڈ اور معاشی فیصلوں کا پسِ منظر (Evergreen Context):
پاکستان میں اشرافیہ کی مراعات اور معاشی بحرانوں کا موازنہ کرنے کے لیے ماضی کے ان ریکارڈز پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- 9 مارچ 2026 کے اقدامات: حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ایندھن کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے سرکاری پیٹرول اور گاڑیوں کے استعمال پر سخت کٹ لگایا تھا، جو اب چند ماہ بعد ہی واپس لے لیا گیا ہے۔
- بجلی اور پیٹرول کا سالانہ بوجھ: ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سرکاری ملازمین، ججز اور افسران کو سالانہ اربوں روپے کا مفت پیٹرول، بجلی اور گیس فراہم کی جاتی ہے، جس کا پورا بوجھ ٹیکس دہندگان (Taxpayers) کی جیب پر پڑتا ہے۔
- سرکاری ورک ویک کا ریکارڈ: توانائی کی بچت کے لیے پہلے بھی کئی بار جمعہ اور ہفتے کی چھٹی کا تجربہ کیا گیا، لیکن دفاتر کی کارکردگی اور ایندھن کی بچت کے مابین توازن برقرار رکھنے میں ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
نتیجہ فکر یہ ہے کہ دکانیں رات 9 بجے بند کروانے سے اتنی بجلی یا ایندھن نہیں بچے گا جتنا نقصان سرکاری افسران کی گاڑیوں میں مفت پیٹرول پھونکنے سے ہوگا۔ جب تک ریاست اپنی اشرافیہ کا پروٹوکول کلچر ختم نہیں کرے گی، ملک میں حقیقی معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔

Comments
Post a Comment