تاریخی بریک تھرو! پاک ثالثی سے امریکہ ایران امن معاہدہ طے پا گیا

Global diplomatic flags along with Pakistan, US, and Iran flags celebrating the Middle East peace breakthrough
مشرقِ وسطیٰ کو تین ماہ سے اپنی لپیٹ میں لینے والی ہولناک جنگ بالاخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک تاریخی امن معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کر دی جائیں گی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی اور دنیا کی سب سے حساس معاشی شہ رگ "آبنائے ہرمز" کو تمام عالمی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس تاریخی امن عمل کو ممکن بنانے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جو غیر معمولی سفارتی کردار ادا کیا ہے، اس پر اس وقت پوری دنیا پاکستان کی معترف نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت، بشمول صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز اس معاہدے کا شاندار الفاظ میں خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی علی الصبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس تاریخی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ طویل اور انتہائی کٹھن مذاکرات کا نتیجہ ہے، جس کی باقاعدہ دستخطی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں منعقد ہوگی۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمت نامہ (MoU) خطے میں پائیدار اور جامع امن کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے اور یہ پیش رفت باہمی احترام کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بہترین مثال ہے۔ دوسری طرف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ "اس بریک تھرو نے ثابت کر دیا کہ جہاں تصادم ناکام ہو جاتا ہے، وہاں سفارت کاری جیت جاتی ہے۔" انہوں نے اس امن عمل کو کامیاب بنانے پر صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر اعلان اور عالمی معیشت پر اثرات

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ نے انتہائی جوشیلے انداز میں لکھا: "اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ڈیل مکمل ہو چکی ہے۔ سب کو مبارک ہو! میں اب آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹانے کی اجازت دیتا ہوں۔ دنیا بھر کے جہازو، اپنے انجن اسٹارٹ کرو، تیل کو بہنے دو!" اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی معیشت کو بڑی راحت ملی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس معاہدے کو عالمی معیشت کے لیے ایک "فخر کا لمحہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین ماہ کے دوران اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات اور توانائی کے بحران کا بڑی حکمتِ عملی سے مقابلہ کیا۔ اس امن معاہدے کے بعد مارکیٹ کا عدم استحکام ختم ہوگا اور اگلے مالیاتی سال میں پاکستان کے معاشی منظرنامے میں مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بھی عالمی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کے اعتراف کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا۔

عالمی برادری کی طرف سے پاکستان کی ثالثی کی زبردست ستائش

اس پورے تنازع میں پاکستان کے غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار کو دنیا بھر کے رہنماؤں نے دل کھول کر سراہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تنازع کے حل میں پاکستان کے بطور ثالث (Arbitrator) کردار کی گہری تعریف کی۔ سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اپنے اعلامیے میں مستقل امن کے لیے اگلے 60 دنوں کے تفصیلی مذاکرات کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کی کوششوں کو سراہا۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایکس پر اپنے پیغام میں خصوصی طور پر لکھا: "میں پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔" برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جاپانی وزیراعظم ثناء تاکائیچی، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اپنے مشترکہ اور انفرادی بیانات میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ پاکستان، قطر اور سعودی عرب کی سفارتی ٹیموں کو اس تاریخی بریک تھرو پر مبارکباد پیش کی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔

معاہدے کے 14 نکات اور پسِ منظر (Evergreen Context)

ایرانی میڈیا کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق، اس معاہدے کا 14 نکاتی ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے جو مستقبل کے مستقل امن کا فریم ورک بنے گا۔ اس معاہدے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:

  • جنگ بندی اور ناکہ بندی کا خاتمہ: تمام محاذوں پر فوری عسکری کارروائیوں کا خاتمہ اور 30 دنوں کے اندر امریکہ کی جانب سے ایرانی بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ۔
  • آبنائے ہرمز کی بحالی: اگلے 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو ایرانی انتظامات کے تحت بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
  • ایران کا جوہری پروگرام: ابتدائی معاہدے میں معاشی اور عسکری تناؤ کو کم کیا گیا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کا حتمی فیصلہ اگلے مرحلے کے مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس مڈل ایسٹ جنگ کا ایور گرین پسِ منظر (Chron


Comments