'اسمارٹ ویسٹ' ٹیکنالوجی اور کارلو اینچلوٹی کا مشن
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مراکش کے خلاف اپنے پہلے میچ سے قبل، برازیل کے کھلاڑی ٹریننگ کے دوران اپنی جرسی کے نیچے ایک خاص 'اسمارٹ ویسٹ' (Smart Vest) پہن رہے ہیں۔ یہ دیکھنے میں ایک اسپورٹس برا کی طرح ہے لیکن اس کے اندر انتہائی حساس جی پی ایس (GPS) ڈیوائسز اور دل کی دھڑکن ماپنے والے الیکٹروڈز لگے ہوئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کھلاڑیوں کی دوڑنے کی رفتار، دل کی دھڑکن، تھکن کے لیول اور ہیمسٹرنگ (پٹھوں) کی انجری سے بحالی کا ڈیٹا لائیو مانیٹر کرتی ہے۔
برازیل کے ہیڈ کوچ کارلو اینچلوٹی کے لیے یہ ڈیٹا ایک برانڈ نیو ہتھیار بن چکا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ برازیل کے اسٹار کھلاڑی دنیا کی مختلف لیگز اور براعظموں میں کھیلتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت، برازیل کا اسپورٹس سائنس ڈپارٹمنٹ ہزاروں میل دور بیٹھے کھلاڑیوں کی روزانہ کی فٹنس کا ڈیٹا براہِ راست اپنے پاس جمع کرتا رہتا ہے، جس سے ورلڈ کپ کی فائنل ٹیم منتخب کرنے میں بے پناہ مدد ملی ہے۔
تجزیہ اور انسانی جذبہ: کیا صرف ڈیٹا میچ جتوا سکتا ہے؟
اس کہانی کا سب سے خوبصورت اور انسانی پہلو یہ ہے کہ فٹ بال صرف ریاضی یا اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ برازیل کے چیف اسپورٹس سائنٹسٹ گیلہرم پاسوس نے ایک یادگار قصہ شیئر کیا کہ ایک بار ڈیٹا کے مطابق ایک کھلاڑی میچ میں صرف 6 کلومیٹر دوڑا، جبکہ باقی کھلاڑی 12 کلومیٹر دوڑ رہے تھے۔ بظاہر وہ کھلاڑی سست نظر آرہا تھا، لیکن جب کوچز نے ویڈیو دیکھی تو معلوم ہوا کہ وہ کھلاڑی میدان میں اتنی بہترین پوزیشن (Tactical Position) پر کھڑا تھا کہ اسے زیادہ دوڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور وہ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی جدید ہو جائے، فٹ بال میں کھلاڑی کا ذہنی سکون، دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور انسانی فیصلہ سازی ہی آخری سچ رہے گی۔ اس ورلڈ کپ میں فیفا اور لینووو کی تیار کردہ 'فٹ بال اے آئی پرو' (Football AI Pro) بھی کوچز کی مدد کر رہی ہے، لیکن برازیل کے کیمپ کا ماننا ہے کہ کمپیوٹر صرف نمبر دے سکتا ہے، جادو تو انسان ہی بکھیرے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ برازیل نے جب بھی ورلڈ کپ جیتا، اپنے دل اور جنون سے جیتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2026 میں یہ سائنسی ڈیٹا اور انسانی عقل کا ملاپ کینگرواز اور یورپی ٹیموں کے خلاف کتنا کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

Comments
Post a Comment