ایک معمولی سوشل میڈیا 'لائیک' اور کھڑا ہونے والا طوفان
اس پورے تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب زارا نور عباس نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ کو 'لائیک' کیا جس میں ڈراما سیریل "زنجیریں" میں سجل علی اور سحر ہاشمی کی اداکاری کا موازنہ کیا گیا تھا۔ آن لائن پیجز اور صارفین نے اس لائیک کا غلط مطلب نکالتے ہوئے یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ زارا نور عباس سجل علی کی اداکاری پر تنقید کر رہی ہیں۔ ان افواہوں اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے لیے زارا نور عباس نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک کرارا جواب شیئر کر کے سب کو خاموش کروا دیا۔
زارا نے تنزیہ انداز میں لکھا: "ہاں بالکل، خواتین کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے رہو۔ فقرے کسو، لیبل لگاؤ اور چیزوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرو۔ ان احمقانہ بیانیوں سے ویوز اور پیسے کماؤ۔" انہوں نے مزید لکھا کہ "اگر میری یا ہماری وجہ سے کسی کے گھر کا چولہا جلتا ہے اور بل ادا ہوتے ہیں، تو مجھے اس پر بہت خوشی ہوگی۔" زارا نور عباس کا یہ منہ توڑ جواب ان تمام پورٹلز کے لیے ہے جو شوبز اسٹارز کی ذاتی زندگی یا معمولی حرکات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: کلک بیٹ میڈیا اور خواتین کی تضحیک کا کلچر
اس پورے معاملے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل میڈیا اب صحافتی اخلاقیات سے مکمل طور پر عاری ہو چکا ہے۔ ویوز اور ڈالرز کی ہوس میں کسی بھی اداکار کے ایک چھوٹے سے 'لائیک' یا 'کمنٹ' کو اتنی بڑی اسکینڈل کی شکل دے دی جاتی ہے کہ اس سے فنکاروں کے باہمی تعلقات متاثر ہوں۔ خاص طور پر شوبز میں کام کرنے والی خواتین کو ہمیشہ ایک دوسرے کی حریف (Rivals) بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جیسے وہ ایک دوسرے کی کامیابی سے جلتی ہوں۔ زارا نور عباس نے نہ صرف اس جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کی ذہنی صحت اور ان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔
شوبز میں کام کرنے والی خواتین پر دہرے معیار اور زارا کا موقف:
زارا نور عباس ہمیشہ سے معاشرتی ناہمواریوں، ذہنی صحت اور کام کرنے والی خواتین کے حقوق پر کھل کر بولنے کے لیے جانی جاتی ہیں:
- ورکنگ ویمن اور دہرے معیار: زارا نے اپنے ماضی کے انٹرویوز میں اس مائنڈ سیٹ کو چیلنج کیا ہے کہ خواتین اپنی پیشہ ورانہ زندگی (Career) اور ذاتی زندگی (Personal Life) کو ایک ساتھ مینیج نہیں کر سکتیں، اور انہوں نے اسے معاشرے کا ایک بڑا تضاد قرار دیا۔
- ذہنی صحت اور اضطراب (Anxiety & Depression): زارا نے ہمیشہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے سنجیدہ مسائل پر بات کی ہے اور اپنے فالوورز کو اپنی ذہنی صحت اور سیلف کیئر (Self-care) کو ترجیح دینے کی تاکید کی ہے۔
- خواتین کا باہمی تعاون (Women Supporting Women): زارا کا حالیہ سٹینڈ یہ واضح کرتا ہے کہ وہ انڈسٹری میں سستی شہرت کی جنگ کے بجائے خواتین کے باہمی اتحاد اور ایک دوسرے کی سپورٹ پر یقین رکھتی ہیں۔
زارا نور عباس کا یہ جرات مندانہ اقدام شوبز انڈسٹری کے ان تمام پیجز کے لیے ایک سبق ہے جو گلیمر کی آڑ میں من گھڑت کہانیاں بیچتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارا سوشل میڈیا میڈیا اخلاقیات کا مظاہرہ کرے گا یا ڈالرز کی دوڑ اسی طرح جاری رہے گی۔

Comments
Post a Comment