ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کے بعد ایک اہم ترین بیان سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان جنرل سردار محبی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو ایران نے ضائع نہیں کیا، بلکہ اس دوران ملک کی عسکری اور آپریشنل صلاحیتوں میں غیر معمولی اور نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ چکی ہیں۔
دشمن کے خلاف نئی جنگی حکمتِ عملی اور تیاری
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی حالیہ عسکری کشیدگی سے ایرانی فورسز نے انتہائی اہم اسباق سیکھے ہیں۔ اس تجربے کی روشنی میں ایرانی مسلح افواج نے دشمن کے جنگی طریقہ کار، ان کی آپریشنل معلومات اور دفاعی حکمتِ عملی کا باریک بینی سے جائزہ لے کر خود کو مزید اپ گریڈ کر لیا ہے۔ جنرل سردار محبی کے مطابق، ان تمام اقدامات کی بدولت ایرانی دفاعی اور جارحانہ نظام اب کسی بھی بیرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔
"اس بار میدانِ جنگ اور ہتھیار بالکل مختلف ہوں گے"
ترجمان آئی آر جی سی نے دشمن ممالک کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے انتہائی سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر دشمن نے دوبارہ کبھی بھی ایران کے خلاف فوجی محاذ کھولنے کی غلطی کی، تو اسے عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار مہم جوئی کی صورت میں:
- کارروائی کا انداز: ایرانی افواج کی جوابی کارروائی کا انداز ماضی کی نسبت انتہائی جارحانہ اور غیر متوقع ہوگا۔
- میدانِ جنگ کا جغرافیہ: جنگ کی صورت میں اس بار معرکے کا جغرافیہ بالکل مختلف ہوگا اور یہ دشمن کی توقعات سے کہیں دور تک پھیل سکتا ہے۔
- جدید ترین ہتھیار: ایرانی سپاہ اس بار ایسے نئے اور مختلف ہتھیار استعمال کرے گی جو دشمن کو حیران کر کے رکھ دیں گے۔
جنرل سردار محبی نے اپنے انٹرویو کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب خطے میں کسی بھی بدلتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

Comments
Post a Comment