تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ اور سوئٹزرلینڈ میں تقریب
معاہدے کی تصدیق ہوتے ہی پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں برینٹ کروڈ (عالمی آئل بینچ مارک) کی قیمت 4.8 فیصد کمی کے ساتھ 83.18 ڈالرز فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی مارکیٹ میں تیل 5.6 فیصد گر کر 80.13 ڈالرز کا ہو گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق، اس تاریخی امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری ٹی وی پر ڈیل فائنل ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "اب تیل کو بہنے دو!" (Let the oil flow)۔
آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی کا بڑا چیلنج
معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کا دوبارہ کھلنا ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بمباری کے بعد سے مکمل بند تھی۔ دنیا کا 20 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) اسی راستے سے گزرتا ہے۔ تاہم، انرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو فوری طور پر پرانی حالت میں آنے میں چند ہفتے سے چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرِ معاشیات اینڈریو لیپو کے مطابق، سب سے پہلے اس سمندری راستے سے جنگ کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں (Mines) کو صاف کرنا ہوگا اور وہاں پھنسے ہوئے بحری آئل ٹینکرز کی لمبی لائنوں کو کلیئر کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
جنگ اور مارکیٹ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اس امن معاہدے کی عالمی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پچھلے چند مہینوں کا معاشی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے:
- جنگ سے پہلے کی صورتحال: فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے عالمی مارکیٹ میں تیل کا ریٹ تقریباً 70 ڈالرز فی بیرل تھا۔
- جنگ کا عروج اور 120 ڈالرز کا دھماکہ: جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے اور جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی، تو تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 120 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچیں، جس سے دنیا بھر میں پٹرول مہنگا ہو گیا تھا۔
- ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جشن: پیر کی صبح اس ڈیل کی خبر آتے ہی جاپان کا 'نکی انڈیکس' 5.4 فیصد اور جنوبی کوریا کا 'کوسپی انڈیکس' 5.5 فیصد بڑھ گیا۔ ایشیا کے یہ ممالک اپنی توانائی کے لیے سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کے محتاج ہیں، اس لیے وہاں معاشی استحکام کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: عالمی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے کی وجہ سے اس ہفتے مارکیٹ میں تھوڑا بہت اتار چڑھاؤ (Volatility) رہے گا۔ لیکن اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا بطور ثالث ابھرنا اور جنگ بندی کروانا، ملکی سفارت کاری کی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکا ہے جس کے اثرات سالوں تک یاد رکھے جائیں گے۔

Comments
Post a Comment