پاک ثالثی پر امریکہ ایران معاہدہ طے، عالمی منڈی میں تیل سستا ہو گیا

An oil tanker ship navigating through the open waters of the Strait of Hormuz with falling oil price charts
عالمی سیاست اور معیشت کے افق سے اس وقت کی سب سے بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ہولناک جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی بالآخر رنگ لے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ فائنل ہو چکا ہے، جس کا باقاعدہ اعلان پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم اوندھے منہ گر گئی ہیں، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسی عالمی عوام کو ایک بڑا ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ اور سوئٹزرلینڈ میں تقریب

معاہدے کی تصدیق ہوتے ہی پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں برینٹ کروڈ (عالمی آئل بینچ مارک) کی قیمت 4.8 فیصد کمی کے ساتھ 83.18 ڈالرز فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی مارکیٹ میں تیل 5.6 فیصد گر کر 80.13 ڈالرز کا ہو گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق، اس تاریخی امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری ٹی وی پر ڈیل فائنل ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "اب تیل کو بہنے دو!" (Let the oil flow)۔

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی کا بڑا چیلنج

معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کا دوبارہ کھلنا ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بمباری کے بعد سے مکمل بند تھی۔ دنیا کا 20 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) اسی راستے سے گزرتا ہے۔ تاہم، انرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو فوری طور پر پرانی حالت میں آنے میں چند ہفتے سے چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرِ معاشیات اینڈریو لیپو کے مطابق، سب سے پہلے اس سمندری راستے سے جنگ کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں (Mines) کو صاف کرنا ہوگا اور وہاں پھنسے ہوئے بحری آئل ٹینکرز کی لمبی لائنوں کو کلیئر کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

جنگ اور مارکیٹ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

اس امن معاہدے کی عالمی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پچھلے چند مہینوں کا معاشی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے:

  • جنگ سے پہلے کی صورتحال: فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے عالمی مارکیٹ میں تیل کا ریٹ تقریباً 70 ڈالرز فی بیرل تھا۔
  • جنگ کا عروج اور 120 ڈالرز کا دھماکہ: جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے اور جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی، تو تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 120 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچیں، جس سے دنیا بھر میں پٹرول مہنگا ہو گیا تھا۔
  • ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جشن: پیر کی صبح اس ڈیل کی خبر آتے ہی جاپان کا 'نکی انڈیکس' 5.4 فیصد اور جنوبی کوریا کا 'کوسپی انڈیکس' 5.5 فیصد بڑھ گیا۔ ایشیا کے یہ ممالک اپنی توانائی کے لیے سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کے محتاج ہیں، اس لیے وہاں معاشی استحکام کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: عالمی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے کی وجہ سے اس ہفتے مارکیٹ میں تھوڑا بہت اتار چڑھاؤ (Volatility) رہے گا۔ لیکن اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا بطور ثالث ابھرنا اور جنگ بندی کروانا، ملکی سفارت کاری کی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکا ہے جس کے اثرات سالوں تک یاد رکھے جائیں گے۔


⬇️ Click to Read this Business Story in English

Oil Prices Plummet as Pakistan Brokers Historic US-Iran Peace Deal


ISLAMABAD / ASIA: Global oil prices tumbled on Monday following Pakistan's successful mediation in securing a peace deal between the US and Iran. Brent crude dropped by 4.8% to $83.18 a barrel, while US oil fell 5.6% to $80.13, following announcements that the vital Strait of Hormuz will be reopened. PM Shehbaz Sharif confirmed the official signing ceremony will take place on June 19 in Switzerland.

Strait of Hormuz Clearance a Multi-Week Challenge

The strategic waterway had been closed since the outbreak of conflicts on February 28, driving pre-war oil prices from $70 up to a peak of $120. Energy analysts warn that while Asian stock markets like Japan's Nikkei surged over 5% in relief, full restoration of shipping routes could take weeks to months due to the critical need for sea-mine clearing operations and resolving massive tanker backlogs.

Comments